زندگی محض واقعات کے تسلسل کا نام نہیں۔ بلکہ ان سے سیکھنے، سمجھنے اور سبق حاصل کر کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا زینہ ہے۔ انسان اپنی زندگی میں ہر لمحہ مختلف تجربات، مشاہدات، تصورات اور خیالات کی روشنی میں بہت سے سبق سیکھتا ہے۔ اور اسی تناظر میں اپنے بہت سے نظریات قائم کرتا ہے۔ یہ اقتباسات بھی اس زاویہ نظر کے عکاس ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف واقعات، تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں پیدا ہوئے۔ یہ اقتباسات نہ تو زندگی کا مکمل نچوڑ ہیں۔ نہ مکمل دعوٰی، نہ ہی مکمل انکار۔ بس یہ وہ حقیقتیں ہیں جن کے بارے میں انسان کو کبھی نہ کبھی ضرور سوچنا چاہیے۔
”لوگ لمحہ حال کو برباد کرتے ہیں۔ کبھی ماضی کی تلخ یادوں کے ذکر سے، کبھی مستقبل کے ممکنہ خطرات کے خیال سے جو غیر یقینی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ لمحہ حال کی قدر کریں، اپنے پاس موجود صلاحیتوں اور وسائل کے مثبت اور تعمیری استعمال سے۔“
”لوگ افسوس کرتے ہیں اس چیز پر جو لاحاصل ہے یا موجود نہیں۔ بھول جاتے ہیں اس چیز کو جو موجود ہے اور ان کے لیے سودمند بھی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے پاس موجود چیزوں اور صلاحیتوں پر اللّٰہ کا شکر ادا کریں۔ جو موجود نہیں، اس پر افسوس اور ماتم نہ کریں۔“
”عجیب زمانہ ہے، لوگ بین کرتے ہیں۔ مُردوں کو یاد کر کے۔ اور قہقہے لگاتے ہیں زندوں کے دل چیر کر الفاظ کے تیر سے۔ لوگوں کو چاہیے کہ زندوں کی قدر کریں۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ اس کے ساتھ مُردوں کا ذکر کر کے فقط بین نہ کریں بلکہ ان کے لیے ایصال ثواب کریں۔“
”آج انسان افراد کے ہجوم میں گرفتار ہے۔ مگر پھر بھی تنہا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے رشتے داروں اور دوست احباب سے تعلقات کی نوعیت پر سمجھوتا نہ کرے“
”انسان کے ساتھ بہت سے دوست ہیں۔ مگر وہ پھر بھی تنہا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنا دوست خود بنے۔ اپنے آپ کو اہمیت دے۔ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انہیں بروئے کار لائے۔ مثبت اور تعمیری عمل انجام دے۔“
”دور حاضر کے لوگوں کی سوچ پر افسوس ہے کہ زندگی کی ضروریات کو مقصد سمجھ بیٹھے ہیں۔ جبکہ اصل مقصد کو بھول بیٹھے ہیں۔“
”انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ کو یقینی اور دائمی نہ سمجھے۔ کیوں کہ انسان کے ساتھ تو اس کا اپنا سایہ بھی سورج ڈھلتے ہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ وقت آنے پر سب لوگ چھوڑ جاتے ہیں۔ جو کہتے ہیں۔ ہم ہمیشہ تمھارے ساتھ ہیں۔“
”مصیبت میں گرفتار شخص کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ تسلّیوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ لیکن دکھ کی طپش اسی کا دل ہی محسوس کرتا ہے جس کا دل اس درد کی حرارت سے جھلس رہا ہوتا ہے۔ حقیقتاً اس شخص کو خارج سے تسلّیوں کا شور سنائی دے رہا ہوتا ہے۔ مگر اپنی داخلی چیخوں کو وہ شخص تنہا ہی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔“
”آج کا انسان دوست اور ملاقاتی کا فرق بھول چکا ہے۔ وہ ہر ملنے والے کو دوست کہہ تو دیتا ہے۔ مگر حقیقتاً آج کا انسان ملاقاتیوں کے سمندر میں غوطے لگا رہا ہے۔ لیکن اس کی زندگی میں دوست ناپید ہیں۔ وہ سچے دوست کو اس طرح تلاش کر رہا ہے۔ جیسے کوئی شخص قیمتی موتی کا متلاشی ہو“
”ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی۔ اسی طرح معاشرتی زندگی میں ہر وہ شخص جس کی ظاہری وضع قطع متاثر کن ہے۔ لازم نہیں کہ وہ عملی زندگی میں اسی اچھائی کا پیکر ہو۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو محض ان کی ظاہری وضع قطع سے ہی نہیں۔ بلکہ اخلاق و کردار کے تناظر میں پرکھیں۔ کیوں کہ انسان کی اصلیت اس کے اخلاق، کردار، نیت اور گفتگو میں پوشیدہ ہوتی ہے۔“
”انسان کو چاہیے کہ مختلف سوشل میڈیا ایپس پر ہر وہ شخص جو دلائل اور وضاحت سے اسے درس دے۔ اس کی بات پر اندھا اعتماد نہ کرے۔ کیوں کہ یہ طرز عمل اب عام ہو چکا ہے۔ ایسا کرنے والے لوگوں کی سادہ لوحی اور مجبوری سے واقف ہو کر بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔“
”پیسہ معیار زندگی کو بلند کرنے کا ضامن ہے۔ مگر انسان کو چاہیے کہ وہ اس چکر میں اپنے اخلاق و کردار پر سمجھوتا نہ کرے۔ کم آمدنی میں گزارا کرنے کو ترجیح دے۔ نہ کہ زیادہ آمدنی کی لالچ میں اپنی عزت، کردار اور جمع پونجی ضائع کر دے۔“
”ساحلِ دریا پر کھڑے ہو کر سطح پر بہتا ہوا پانی آنکھوں کو بھاتا ہے۔ گہرائی کا اندازہ غوطہ لگا کر ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ کسی بھی ذریعے سے ملنے والی معلومات پر نہ خود اندھا اعتماد کرے۔ نہ ہی دوسروں میں عام کرے۔ بلکہ پہلے اس کے محرکات، اسباب اور نتائج و اثرات کا مکمل ادراک حاصل کرے۔ پھر اس کی صحت یا غلطی کے بارے میں رائے قائم کرے۔“
”وہ دوست یا ساتھی جن سے ماضی میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے وابستگی تھی۔ پھر وہ وقت اور حالات کی گردش کے نتیجے میں اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے۔ اب اگر وہ بوقت ضرورت آپ سے رابطہ کریں۔ تو اپنے آپ کو دوبارہ جذباتی طور پر ان کے حوالے نہ کریں۔ کیوں کہ وہ بدستور آپ سے اپنا مطلب نکالیں گے اور رخصت ہو جائیں گے۔ انہیں آپ کے جذبات کے مجروح ہونے کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کا مطمح نظر صرف ذاتی مفاد اور ضرورت کی تکمیل ہے۔“
مجموعی طور پر یہ اقتباسات زندگی کا مکمل نچوڑ تو نہیں۔ مگر چند حقیقتوں کے آئینہ دار ضرور ہیں۔ جن کی تلخی کے بارے میں ہر فرد کسی نہ کسی موقعے پر ضرور سوچتا ہے۔











