Asfiya Nourine

عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت

عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت

یوں تو تمام کائنات قدرت کے کرشموں سے مالامال ہے۔ جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ انہی کرشموں میں سے ایک کرشمہ بہتی ہوئی موج کا دریا کے اندر اپنی حدود میں رواں دواں رہنا ہے۔

یہ موج جب تک دریا کے اندر اپنے مرکز اور مدار میں بہتی رہتی ہے۔ تو طاقتور رہتی ہے۔ راستے میں آنے والے ہر پہاڑ سے ٹکرا جاتی ہے۔ اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ مگر جب یہی موج دریا کے ساحل سے باہر نکلتی ہے۔ تو اپنی مرکزیت کھو دیتی ہے۔ پھیل کر ریت میں گم ہو جاتی ہے۔

موج کی یہ کہانی قدرت کا عظیم کرشمہ تو ہے۔ مگر محض انسان کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے نہیں۔ اس میں انسانی زندگی کے لیے کئی سبق اور اصول پوشیدہ ہیں۔ یہ بات حیرت انگیز تو ہے۔ آئیے اس پر غور کرتے ہیں۔

انسان جس خاندان اور معاشرے میں رہتا ہے۔ وہاں کا اپنا ماحول، تہذیب، معاشرت اور اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ ہر انسان لاشعوری طور پر انہی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے زندگی کے شب و روز بسر کرتا ہے۔ غور کیا جئے تو اصولوں اور رسم و رواج کا یہ ڈھانچہ منجمد تو نہیں ہوتا۔ مگر اس سب میں تبدیلی آتے ہوئے صدیاں گزر جاتی ہیں۔ سال ہا سال سے نسل در نسل لوگ اسی ڈھانچے کی پیروی آنکھیں بند کیے ہوئے کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی اس تحقیق کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ ان اس سب میں اصل کتنا ہے؟ اور کیا ہے؟ کس اصول میں تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت ہے؟

جب تک انسان اسی بنے بنائے راستے پر آنکھیں بند کر کے چلتا رہے۔ تو وہ موج کی طرح اپنے سفر پر رواں دواں رہتا ہے۔ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ سے ٹکرا جاتا ہے۔

مگر جب یہی انسان بنے بنائے راستوں سے انحراف کرتا ہے۔ روایتی اصولوں کی خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ ترمیم و اضافے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ تو اسے اسی طرح بکھیر دیا جاتا ہے۔ جیسے موج دریا سے باہر نکلتے ہی ریت کی نذر ہو کر گم ہو جاتی ہے۔ خواہ وہ درست سمت میں ہی کیوں نہ رواں دواں ہو۔

ازل سے یہی دستور جاری ہے۔ ہر معاشرہ کچھ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے زندہ رہتا ہے۔ جب ان اصولوں میں کچھ غلط اور تخریب پیدا کرنے والے اصول شامل ہو جائیں۔ اور ان کی پیروی شروع ہو جائیں۔ تو معاشرے کا مذہبی، سماجی، اخلاقی اور معاشی نظم و ضبط غیر متوازن ہو جاتا ہے۔

اسی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے جو فرد علم بلند کرتا ہے۔ اس کا وہی حال کیا جاتا ہے۔ جو دریا سے باہر نکلنے والی موج کا ہوتا ہے۔

دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے رسم و رواج اور اصول و ضوابط رائج ہو گئے ہیں۔ جن کی پیروی اکثریت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ یہ سوچے سمجھے اور تحقیق کیے بغیر کہ ان میں سے کیا اور کتنا اصل ہے؟ کیا چیز بعد میں کب، کیوں اور کیسے رائج کی گئی ہے؟

یہ المیہ کسی خاص شعبے کا نہیں ہے۔ بلکہ چھوٹی سے چھوٹی اکائی یعنی گھر سے لے کر تعلیم یا روزگار کے مقام پر اس صورت حال کا احساس اور سامنا ہر اس شخص کو کرنا پڑتا ہے۔ جو گہری سوچ، تنقیدی بصیرت اور حق گوئی کا جذبہ رکھتا ہو۔

جب کوئی شخص ان اصول و ضوابط اور رسم و رواج کو غلط کہتا ہے۔ ان کے خاتمے یا انہیں درست اصول و ضوابط سے بدلنے کا کہتا ہے۔ تو اسے نفرت، عداوت اور بغاوت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

یہ سلسلہ یہاں تھمتا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لیے گروہ کے گروہ مل کر زوال عزت کے مواقع اور اسباب تلاش کرنے لگتے ہیں۔ تاکہ اسے مطلوبہ جگہ سے غائب کیا جا سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ ہر رسم و رواج اور اصول و ضوابط کی پابندی فرض سمجھ کر لازم نہیں ہے۔ یہ رسم و رواج منجمد بھی نہیں ہیں۔ کہ کبھی بدلے نہ جا سکیں۔ بہتری اسی میں ہے کہ ان رسم و رواج کو مطلوبہ عہد کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جاتا رہے۔ تاکہ یہ بوسیدہ اور پرانے معلوم نہ ہوں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصول و ضوابط سے بغاوت صرف اسی صورت میں قابل ستائش ہو گی۔ جو واقعی غلط اور فلاح عامہ کے خلاف ہوں۔ معاشرتی اور اخلاقی نظام میں تباہی کا سبب بنیں۔

علاوہ ازیں ایسے افراد جو غلط اصول و ضوابط سے واقف ہیں۔ ان سے بغاوت کر رہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ خود ان غلط اصول و ضوابط کی پیروی سے اجتناب کریں۔ اپنی استطاعت کے مطابق جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف عوام میں شعور اور آگہی بیدار کریں۔ اور اصلاح کے لیے مثبت اور تعمیری متبادل بھی فراہم کریں۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *