اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اسے تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم اور دفاتر میں سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ یہ بات تو ہمارے موجودہ آئین 1973 میں واضح طور پر درج ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات صرف لفظی طور پر آئین کے کاغذ پر موجود ہے۔ عملی زندگی میں اس کا نفاذ کہاں ہے۔ اگر ہے تو کتنا موثر ہے۔ آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔
اپنی قومی زبان اردو پر تو ہر پاکستانی کو فخر ہے۔ مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں رسماً اردو کی کتاب بارھویں جماعت تک تو لازمی ہے۔ مگر یہ لازمی کتاب دوسری لازمی کتابوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فراموش کی جاتی ہے۔
اول اساتذہ کی بات کی جاۓ تو جہاں ہر مضمون کی تدریس کے لیے متعلقہ مضمون کے ماہر اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں۔ وہاں بد قسمتی سے اساتذہ کی قلت کو وجہ قرار دیتے ہوۓ سائنس، ریاضی یا کسی اور مضمون کے ماہر استاد کو اردو کی تدریس کا فریضہ سونپ دیا جاتا ہے۔
صاف بات ہے کہ ہر شخص جس مضمون کا ماہر ہے۔ وہ اسی مضمون کی بہترین تدریس ہی کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اردو کے ماہر اساتذہ موجود بھی ہیں۔ تو وہ ڈگری یافتہ تو ہیں۔ مگر ناقص تعلیمی نظام کی بنا پر ان کے پاس زبان و ادب کی بنیادی معلومات بھی موجود نہیں ہیں۔ وہ کتاب میں درج نصاب کو ہو بہو آئینہ اردو کی مدد سے خود کلاس میں مشق کروا دیتے ہیں۔ یا طلبہ کو اسی آئینہ اردو کا حوالہ دے کر کہہ دیتے ہیں۔ یہاں سے دیکھ کر کر لیں۔
اس ساری صورت حال میں طلبہ کاپی پیسٹ ہی کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اردو کے قواعد تک کا علم نہیں ہوتا۔ املا بھی نہایت ناقص ہوتی ہیں۔ ان تمام خرابیوں پر اکثر و بیشتر اساتذہ کوئی توجہ نہیں دیتے۔ صرف یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کہ آج کل ایسا ہی ہو رہا ہے۔ زیادہ کتابیں انگریزی میں ہیں۔ اردو کی کتاب بھی ایک ہے۔ اور وقت بھی کم ہے۔ یہ سب کچھ ٹھیک کرنا مشکل ہے۔
اس سارے نظام میں خوش قسمتی سے اگر کوئی قابل اور ماہر اردو استاد طلبہ کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلے میں عملی قدم اٹھاۓ۔ تو طلبہ یہ اصلاح قبول کرنے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے۔ ان کا بھی یہی نظریہ بن چکا ہے کہ ہر جگہ اہمیت اور ضرورت تو انگریزی زبان کی ہے۔ اردو نہ بھی آۓ تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اسی طرح ہمارے دفاتر میں زبانی کلامی گفتگو تو اردو میں کی جاتی ہے۔ جب کوئی دستاویز کاغذ پر تحریر کرنی ہو۔ تو اسے ہر صورت انگریزی زبان میں تحریر کیا جاتا ہے۔ اور کہاں جاتا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ حتٰی کہ ہمارے ملک کے قوانین وغیرہ بھی انگریزی زبان میں ہی پاس ہوتے ہیں۔
بولنے کے لیے اردو اور تحریر کے لیے انگریزی اس دو لسانی ڈھانچے نے نئی نسل کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ دور حاضر کے طلبہ نہ تو اردو پر اور نہ ہی انگریزی پر عبور رکھتے ہیں۔ انگریزی کی تحریر سمجھنے کے لیے اردو مترجم ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح اردو کے مشکل الفاظ سمجھنے کے لیے آئینہ اردو یا جدید اے آئی ٹول ٹرانسلیٹر کا سہارا لیتے ہیں۔
بول چال میں نہ ہی قواعد کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کوئی اصلاح کرے تو کہتے ہیں۔ جو بول رہے ہیں یہی ٹھیک ہے۔ سمجھ تو آ گئی ہے۔
اسی طرح جدید مواصلاتی آلات میں میسجنگ میں رومن اردو کو رواج دیا جا رہا ہے۔ جو ڈیجیٹل میدان میں اردو زبان کے زوال کا باعث ہے۔
ان تمام خامیوں کے باوجود روایتی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو زبان کی ترقی میں اگرچہ مختلف ادارے اور افراد اپنی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مگر یہ خدمات ناکافی ہیں۔ جب تک وسیع پیمانے پر سب متحد ہو کر اس میدان میں اپنا کردار ادا نہ کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ جو اپنی زبان، تہذیب، ثقافت اور روایات کو اہمیت دیتی ہیں۔ انہیں عملی زندگی میں تھامے رکھتی ہیں۔ لہٰذا بحیثیت قوم ہمارا فرض ہے کہ انفرادی سطح پر اردو زبان کو درست انداز سے سیکھیں۔ تعلیمی اداروں میں اردو کے ماہر اساتذہ کا تقرر کیا جاۓ۔ انہیں اس بات کا پابند کیا جاۓ کہ اردو زبان کی درست اور صاف تدریس کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اردو زبان کے قواعد اور درست ادائیگی کے بارے میں آگاہ کیا جاۓ۔ انہیں درست تلفظ اور ادائیگی کی تربیت دی جاۓ۔ ریاست اور حکمرانوں کو چاہیے کہ سرکاری سطح پر تحریر و تقریر میں اردو زبان کے نفاذ کو یقینی بنایا جاۓ۔ علاوہ ازیں ڈیجیٹل میدان میں اردو زبان کی حقیقی ساخت اور رسم الخط کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ تاکہ ہماری زبان بھی دیگر زبانوں کی طرح ترقی یافتہ زبان بن سکے۔











