کیا واقعی زیادہ سے زیادہ نمبروں کاحصول کامیابی ہے؟ کیا ملازمت میں اعلٰی سے اعلٰی عہدے تک پہنچنا ہی ترقی ہے؟ کیا بھاری بنک بیلنس اور وسیع و عریض مکان ہی خوشحالی ہے؟ اگر ہاں تو کیا یہ حقیقی کامیابی ہے یا عارضی؟
کامیابی، ترقی اور خوشحالی عوام و خواص میں استعمال ہونے والی اصطلاحات ہیں۔ جو کم و بیش تقریباً ایک جیسے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ان اصطلاحات سے آج کل لوگ جو مراد لیتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں جو معیارات عوام میں قائم ہو چکے ہیں۔ کیا یہی کامیابی، ترقی اور خوشحالی کا معیار ہے؟ آئیے اس بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔
ہر شخص اپنی زندگی میں کامیابی ، ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھتا ہے۔ اور اسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اور دعا گو بھی رہتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر شخص نے اپنے معیار اور مقاصد مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ اہداف تو اپنی جگہ درست ہیں۔ مگر توجہ طلب بات یہ ہے کہ کیا یہی مقاصد اور معیار حقیقتاً انسانی زندگی میں مقصود ہیں یا کچھ اور۔
تعلیمی حوالے سے بات کی جاۓ تو طالب علم کی حیثیت سے اگر کامیابی کے مفہوم کو سمجھا جاۓ تو وہ یہی ہے کہ امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنا ہی نمایاں کامیابی ہے۔ خواہ یاد کردہ معلومات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا ہنر آتا ہو یا نہو۔ خواہ وہ معلومات سمجھ آئیں یا نہ آئیں۔
مگر عموماً طلبہ اپنی ساری تعلیمی زندگی اسی مقصد کے حصول کے لیے صرف کر دیتے ہیں۔
اس میں صرف طالب علم کا اپنا قصور نہیں۔ بلکہ ارد گرد کا ماحول اور لوگ بھی ذمے دار ہیں۔
یہی طالب علم جب معاشی طور پر خود مختار ہونے کے سلسلے میں عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ناقص تربیت کے زیر اثر اس کا تمام مرکز و محور زیادہ سے زیادہ روپیہ پیسہ کمانے پر ہوتا ہے۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں وہ اپنے عہدے کی بلندی اور بہتری کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرتا ہے۔ وہ اس سلسلے میں بعض اوقات حلال حرام کی تمیز سے بھی بے پرواہ ہو جاتا ہے۔
لہٰذا وہ صرف پیسے کے حصول کی خاطر جائز ناجائز امور کو نظر انداز کرتے ہوۓ ترقی کی خاطر ان تمام امور کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ جنہیں وہ اپنی سوچ و فکر میں ترقی خیال کرتا ہے۔
بعض اوقات تو وہ اس سلسلے میں وہ جھوٹ، فریب، رشوت، بے ایمانی جیسے اخلاقی رزائل کے ارتکاب سے بھی گریز نہیں کرتا۔
یہی شخص جب پختہ عمر میں سماجی زندگی میں خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ تو اس کے نزدیک خوشحالی کا معیار صرف اور صرف بنک بیلنس، بنگلہ، معاصر آسائشوں اور آسودگی کا حصول ہوتا ہے۔ وہ اسی چمک دمک کو ہی خوشحالی کا معیار تصور کرتے ہوۓ حصول کے لیے تگ و دو شروع کر دیتا ہے۔
بدقسمتی سے المناک صورت حال یہ ہے کہ اس ساری مادی ترقی اور چمک دمک کو اصل سمجھتے ہوۓ انسان اپنے اصل مقصد حیات سے ناواقف ہو گیا ہے۔
بات یہ ہے کہ یہ تمام مادی ترقی دنیا میں خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر تو ہے۔ مگر اس مادی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوۓ اپنی ذات، شخصیت، وجود اور اخلاق و کردار کو سراسر فراموش کرنا کیسی دانشمندی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنی ترقی، کامیابی اور خوشحالی کے لیے محنت اور دعا ضرور کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں جائز اقدامات بھی کرے۔ لیکن اپنی ذات، وجود اور شخصیت کی انفرادیت کو برقرار رکھے۔ اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر بنا کر پیش کرے۔ اپنی حقیقی زندگی کے لیے تیاری کرے۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے۔ جب وہ دینی تعلیمات کو سیکھے۔ اور پھر ان پر عامل پیرا بھی ہو۔
کیوں کہ ابدی زندگی میں کامیابی کے لیے اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد، اخلاق حسنہ اور اچھا اور اعلٰی کردار ہی کام آۓ گا۔
آج جس مادی ترقی کو انسان نے اپنا مطمع نظر بنا رکھا ہے۔ یہ ترقی اور خوشحالی اسے عارضی زندگی میں تو بظاہر بہت سکون فراہم کر سکتی ہے۔ مگر یہ سکون اس کے داخلی انتشار اور بے سکونی کا باعث ہے۔
لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ انسان اس دنیا میں رہتے ہوۓ اپنی روحانی اور باطنی تربیت کا اہتمام کرے۔ ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے امور کو بھی اچھی طرح انجام دے۔ اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور کرے۔ کیوں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد ہی انسان کو عارضی اور ابدی زندگی میں کامیابی، ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار کروا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ انسان اس بات کو ذہن نشین کرے کہ میری ابدی کامیابی، ترقی اور خوشحالی داخلی اور خارجی دونوں پہلوؤں کی تربیت اور نشونما پر موقوف ہے۔ وہ روحانی، باطنی اور مادی ترقی کے لیے یکساں جدوجہد کرے۔ کسی پہلو کو بھی نظر انداز نہ کرے۔
خلاصہ یہ کہ حقیقی کامیابی، ترقی اور خوشحالی وہ ہے۔ جو ضمیر کو سکون و اطمنان اور روح کو خوشی بخشے۔ انسان روح و جسم کا مجموعہ ہے۔ مادی ترقی جسم کو سکون اور آسائش فراہم کرتی ہے۔ جبکہ باطنی تربیت اور نشونما روحانی ترقی کی ضامن ہے۔
آج انسان جس چمک دمک کو حقیقی کامیابی، ترقی اور خوشحالی سمجھ کر اصل کامیابی کو فراموش کیے ہوۓ ہے۔ یہ ترقی کے نام پر تنزلی اور خوشحالی کے نام بدحالی ہے۔ جسے وقت خود بخود ثابت کر دے گا۔ کیوں کہ وہ ترقی جو ایمان، اخلاق اور کردار کے زوال کا باعث ہو۔ وہ درحقیقت تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ خواہ انسان اس حقیقت سے منہ ہی موڑتا رہے۔











