تعلیم کو کسی بھی فرد، معاشرے اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے۔ تعلیم کا حصول ہر فرد کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مرد، عورت یا معذور شخص کی کوئی قید نہیں۔
ہمارے تعلیمی نظام کی قابل تعریف بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جنرل تعلیمی ادارے تو وافر مقدار میں موجود ہیں۔ بلکہ روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ کچھ ادارے سرکاری ہیں۔ کچھ نیم سرکاری اور کچھ پرائیویٹ ہیں۔ یہ تمام ادارے اپنے اپنے انداز سے تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہیں۔
معذور افراد کی تعلیم کے حوالے سے بات کی جاۓ تو وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی تعلیم کے ادارے تو موجود ہیں۔ مگر تعداد میں بہت قلیل۔ قلت کے باوجود ان اداروں کی خاصیت یہ ہے کہ ہر طرح کے معذور بچوں کے لیے الگ الگ تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ گونگے، بہرے بچوں کے لیے الگ، ذہنی معذور بچوں کے لیے الگ جسمانی معذور بچوں کے لیے الگ۔ یہ تمام ادارے اپنے اپنے طلبہ کی ضروریات، نفسیات اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت کے مطابق مختلف تدریسی طریقے اختیار کرتے ہوۓ طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف ہیں۔
خصوصی طور پر نابینا طلبہ کی بات کی جاۓ تو ان کے تعلیمی ادارے الگ ہیں۔ جہاں انہیں ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتزہ نابینا طلبہ کی نفسیات اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوۓ مختلف طریقہ ہاۓ تدریس اختیار کرتے ہیں۔
نابینا طلبہ کا یہ تعلیمی سفر بہت سے تعلیمی، معاشرتی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل، رکاوٹوں اور تعصبات جیسے کانٹوں سے خاردار ہوتا ہے۔ انہی کانٹوں کو ہٹاتے ہوۓ طالب علم کی پوری زندگی گزر جاتی ہے۔
ان خصوصی اداروں میں صرف میٹرک تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لکھنے پڑھنے کے لیے طلبہ کو خصوصی زبان بریل سکھائی جاتی ہے۔ جس کے سیکھنے کے بعد طلبہ باآسانی پڑھنے، لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ آٹھویں جماعت تک امتحانات تو طلبہ خود دیتے ہیں۔ اس سطح تک وہ لکھائی، پڑھائی کے سلسلے میں خودمختار ہوتے ہیں۔
ان اداروں میں تمام طلبہ ایک ہی مسئلے یعنی نابینا پن سے دوچار ہوتے ہیں۔ چنانچہ انہیں معاشرتی رویوں میں کسی پریشان کن یا منفی رویے کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر انہیں ایک دوسرے کی کوئی بات بری بھی لگتی ہے۔ تو وہ اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔
ان اداروں کے تعلیمی نظام کی خامی یہ ہے کہ طلبہ کو اچھی تعلیم تو فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی تربیت کا کوئی سلسلہ موجود نہیں ہے۔ جس میں طلبہ کو بتایا جاۓ کہ دنیا میں مختلف لوگ مختلف رویوں اور عادات کے حامل ہیں۔ ضروری نہیں ہر شخص ہمیں دیکھ کر مثبت اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرے۔ ہماری مشکلات کو سمجھے۔ ان کے حل میں ہماری مدد کرے۔ اگرچہ اساتزہ خود ان طلبہ کے ساتھ اکثر و بیشتر اسی طرح ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ بعد ازاں طلبہ اس رویے کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں۔ کہ وہ ہر کسی سے اسی رویے کی توقع رکھتے ہیں۔
پھر جب طلبہ کو متوقع رویے کے خلاف کسی متضاد رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تو وہ نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں۔ جس سے ان کی ذہنی، نفسیاتی صحت اور معاشرتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
نویں جماعت سے بورڈ کے امتحانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بورڈ کی پالیسی کے تحت یہاں سے آگے بورڈ کے تمام امتحانات اور اعلٰی تعلیم کے جملہ امتحانات رائٹر کے ذریعے دینا ہوتے ہیں۔
اس طریقے میں رائٹر مطلوبہ امیدوار کو سوال نامہ پڑھ کر سناتا ہے۔ اور امیدوار جواب بولتا ہے جسے رائٹر جواب کی شیٹ پر تحریر کرتا ہے۔
بظاہر یہ طریقہ آسان اور سہل محسوس ہوتا ہے۔ دیکھنے والے تمام لوگ یہی کہتے ہیں۔ کہ امیدوار کی محنت میں تو شراکت ہو گئی۔ امیدوار کو سارا نصاب خود یاد نہیں کرنا پڑا ہو گا۔ رائٹر نے اس کی مدد کی ہو گی۔
یہ تمام رنگ برنگی باتیں تو لوگ اس کی زندگی کو آسان سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں۔
جبکہ ایک امیدوار جو دن رات دہری محنت سے پڑھتا ہے۔ وہ نصاب جسے عام طلبہ کتاب سے دیکھ کر پڑھتے ہیں۔ نابینا طالب علم اسے دوسروں سے کہہ کر ریکارڈ کرواتا ہے۔ پھر اسے سن سن کر یاد کرتا ہے۔
امتحان کے موقع پر امتحانی مرکز میں بیٹھ کر رائٹر کو ایک ایک لفظ بول کر لکھواتا ہے۔ بعض اوقات رائٹر مطلوبہ مضمون سے بالکل ناواقف ہوتا ہے۔ اسے ہجے بول کر لکھوانے پڑتے ہیں۔
بعض اوقات اس کی لکھائی اس قدر گندی ہوتی ہے کہ ممتحن کے لیے پڑھنا کبھی دشوار اور کبھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں امیدوار کی محنت خاک میں مل جاتی ہے۔ کیوں کہ ممتحن تو اسی مواد کو پڑھ کر نمبر دے گا۔ جو پرچے میں درج ہے۔ اسے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ امیدوار کے ذہن میں کیا ذخیرہ موجود ہے۔
اس میں قصور ممتحن کا نہیں۔ بلکہ اس رائٹر کا ہے۔ جس نے ذمے داری تو لی۔ مگر اسے کامل انداز سے تو کیا۔ بلکہ اوسط درجے سے بھی پورا نہ کر سکا۔
اعلٰی تعلیم کے لیے جب طلبہ کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں۔ تو وہاں انہیں طرح طرح کے پروفیسرز اور طلبہ سے واسطہ پڑتا ہے۔ کچھ پروفیسرز کلاس میں سارا لیکچر یا تو سلائڈز دکھا کر یا بورڈ پہ لکھ کر پیش کر دیتے ہیں۔ کچھ زبانی بیان تو کرتے ہیں۔ مگر ادھورا۔ کبھی آواز بہت دھیمی ہوتی ہے۔ کہ سنائی ہی نہیں دیتی۔ یا اس قدر تیز اور بے ربط بولتے ہیں کہ طلبہ کے لیے مطلوبہ عنوان کو سمجھنا دشوار ہو گاتا ہے۔ یہ مسئلہ تو خیر صرف نابینا طلبہ کو ہی نہیں۔ بلکہ عام طلبہ کو بھی پیش آتا ہے۔
کچھ پروفیسرز تو ایسے ہوتے ہیں۔ جو پورا پورا سمسٹر گزرنے کے باوجود اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں۔ کہ اس جماعت میں کوئی نابینا طالب علم بھی موجود ہے۔
کچھ پروفیسرز تدریسی تربیت سے ناواقفیت اور ناتجربہ کاری کی بنا پر طلبہ سے پوچھ لیتے ہیں کہ آپ کو کیسے پڑھایا جاۓ۔ ان کی خاصیت یہ ہوتی ہے۔ کہ وہ صرف پوچھتے ہی نہیں۔ بلکہ اس کے بعد طالب علم کی طرف سے بتاۓ جانے والے طریقے کے مطابق اسے نصاب کی تدریس اور رہنمائی کرتے ہیں۔ ایسے پروفیسرز کی طلبہ بہت عزت اور قدر کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم جماعت طلبہ چونکہ مطلوبہ نابینا امیدوار کے ہم عمر ہوتے ہیں۔ انہیں بھی کوئی تجربہ تو نہیں ہوتا۔ لیکن آپس کی بات چیت اور گفتگو سے رفتہ رفتہ وہ تمام ہم جماعت سیکھ لیتے ہیں۔ کہ ہمیں اپنے ہم جماعت کی مدد کیسے کرنی ہے۔ تاکہ اس کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔ اور مدد بھی ہو جاۓ۔
نابینا طلبہ کو تعلیمی میدان میں سب سے بڑا مسئلہ امتحانات میں رائٹرز کی ناقابلیت کی بنا پر امتحانات دینے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ کچھ ادارے اپنا رائٹر خود لانے کی اجازت کچھ شرائط کے ساتھ دیتے ہیں۔ مگر جہاں یہ اجازت نہیں۔ وہاں ادارہ اپنے من پسند لوگوں کو رائٹر نامزد کرتا ہے۔ خواہ اسے لکھنا آتا ہو۔ یا نہ ہو۔
یہ اختیار تو مناسب ہے۔ مگر آج کل کے دور میں ہر شخص اس قدر مصروف ہے۔ کہ وہ یہ ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔
جہاں طلبہ کو ادارے کے من پسند رائٹرز مہیا کیے جاتے ہیں۔ وہاں طلبہ کو رائٹرز سے اکثر اوقات لکھنے پڑھنے کے مسائل، بلکہ بعض اوقات بد اخلاقی اور بد تمیزی جیسا رویہ اور لہجہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صرف مجبوری کی خاطر۔
اگرچہ اب یہ تجویز بھی زیر غور ہے۔ کہ طلبہ کو کمپیوٹر یا لیپٹوپ پر امتحان دینے کی سہولت فراہم کر دی جاۓ۔ تاکہ انہیں رائٹر کی محتاجی سے نجات مل جاۓ۔ یہ تجویز تو اچھی ہے۔ مگر اس صورت میں بھی طلبہ کو ایک ایسے شخص کی ضرورت پڑے گی۔ جو سوال نامہ پڑھ کر سناۓ۔
اس سلسلے میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کمپیوٹر یا لیپٹوپ میں استعمال کیے جانے والے سکرین ریڈر سوفٹ ویئرز انگریزی زبان کے ساتھ تو تقریباً سو فیصد ہم آہنگ ہیں۔ مگر اردو زبان کے ساتھ ان سوفٹ ویئرز کی ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایک سوفٹ ویئر اردو زبان کو سپورٹ تو کرتا ہے۔ مگر اس متن کو جو بزات خود ورڈ میں ٹائپ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پہلے سے لکھا گیا متن جو فائل کی صورت میں لیپٹوپ میں شیئر کیا جاۓ کو وہ سوفٹ ویئر او سی آر کے بغیر اسے نہیں پڑھتا۔ اس پروسیس میں دس منٹ کا کام کم و بیش آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے کی طوالت کو پہنچ جاتا ہے۔
کمپیوٹر یا لیپٹوپ پر امتحان دینا ممکن تو ہے۔ مگر امتحان کے محدود وقت کو سامنے رکھتے ہوۓ یہ تجویز غیر موثر اور نا قابل عمل محسوس ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں پالیسی بنانے والے انتظامی افراد کو چاہیے کہ رائٹر کے طریقے کو برقرار رکھیں۔ ان کی قابلیت کو بہتر بنائیں۔ طلبہ کو رائٹرز فراہم کریں۔ رائٹرز کو کچھ رقم بطور معاوضہ فراہم کریں۔ تاکہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمے داریاں ادا کریں۔
عام طلبہ میں اس شعبے کو متعارف کروایا جاۓ۔ کچھ افراد ناواقفیت کی بنا پر بھی ایسا کرنے سے گھبراتے ہیں۔
معاوضے کے سلسلے میں اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ سے مذاکرات کر کے انہیں اس بات پر آمادہ کیا جاۓ۔ کہ وہ خود اپنے اپنے رائٹر کو اپنی استطاعت کے مطابق معقول رقم بطور معاوضہ ادا کریں۔
اس کے علاوہ امتحانات دینے کے لیے آڈیو ریکارڈنگ بھی ایک موثر اور غیر محتاج طریقہ ہے۔ جس میں طلبہ آڈیو ریکارڈنگز کی مختلف ایپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوۓ اپنا پرچہ خود ریکارڈ کر کے مطلوبہ استاد کو ارسال کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ امتحان کے محدود وقت کو مد نظر رکھتے ہوۓ قابل عمل اور موثر ہے۔
تعلیمی سفر میں جہاں طلبہ کو ان مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ وہ ہر لمحہ انہی مسائل اور ان کے موثر حل کی تلاش میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔ وہاں معاشرے کے افراد خواہ تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہوں۔ ان کے لیے منفی رویوں اور تعصبات کا جال بچھاۓ بیٹھے ہوتے ہیں۔
خصوصاً تعلیمی اداروں میں اساتزہ کے رویوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ مگر تعلیمی اداروں سے باہر بھی طرح طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ جو رنگ برنگی مثبت اور منفی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ باتیں ان طلبہ کے لیے جو نفسیاتی اور ذہنی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ احساس کمتری کا باعث بنتی ہیں۔
یہ یاد رہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں۔ جو اپنی استطاعت کے مطابق نابینا افراد کی مشکلات کو حل کرنے اور ان کی زندگی کو سہل اور آسان بنانے کے یے انفرادی طور پر کوشاں رہتے ہیں۔ بعض اوقات کسی ادارے سے وابستہ ہو کر اپنے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتزہ کو نابینا طلبہ کو پڑھانے کے سلسلے میں تربیت فراہم کی جاۓ۔ مزید یہ کہ اساتزہ طلبہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں۔ ان سے بات چیت کریں۔ ان کے مسائل کو سنیں۔ ان سے پوچھیں۔ کہ ان کے لیے کون سا تدریسی طریقہ موثر ہے؟ پھر طلبہ کی راۓ کی روشنی میں اساتزہ کو چاہیے کہ مختلف اقدامات کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ نابینا طلبہ کو چاہیے۔ کہ وہ ہر لمحہ مثبت اور منفی دونوں رویوں کے لیے تیار رہیں۔ اپنے آپ کو ہر وقت تازہ دم رکھیں۔ کوشش کریں اپنی سوچ کو مثبت اور تعمیری بنائیں۔ اپنے مقاصد کے حصول کے راستے میں آنے والی مشکلات سے گھبرانے کے بجاۓ ان کا حل تلاش کریں۔ منفی تبصروں کا جواب زبان سے دینے کی بجاۓ عمل سے دیں۔ سب سے بڑھ کر معاشرے میں آگہی پھیلائی جاۓ کہ بصارت سے محرومی کوئی معذوری یا عیب نہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ضرور ہے۔ لیکن ایسے افراد کو مطلوبہ سہولیات اور مراعات فراہم کر کے، انہیں زندگی میں جہاں مدد کی ضرورت ہو وہاں مدد کر کے انہیں خود مختار بنایا جا سکتا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے محتاج نہ بنیں۔ بلکہ اپنی دیگر تعمیری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوۓ زندگی میں اس قدر آگے بڑھ جائیں۔ کہ نابینا پن کی طرف کسی کی توجہ ہی نہ رہے۔ مگر یاد رہے یہ سب صرف اور صرف محنت، جہد مسلسل اور مثبت اور تعمیری سوچ سے ممکن ہے۔ اور انہی ہتھیاروں کا مرہون منت ہے۔











