کیا آپ نے کبھی غریب بچے کی آنکھوں میں بھوک کی چمک دیکھی ہے۔ یا کبھی کسی معذور شخص کے چہرے پر خاموش تکلیف محسوس کی ہے۔ جو لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ کمزور اور محتاج افراد کے چہروں پر موجود یہی حسرت اور محرومی کے تاثرات دیکھ کر دل میں پیدا ہونے والی عجیب سی لہر جو ہمارے دل کو موم کر دیتی ہے۔ ہمدردی ہے۔ اور اسی جذبے کا عملی اظہار مدد ہے۔
ہمدردی اور مدد ایسے انسانی جذبات ہیں جو ہر انسان میں موجود ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ افراد ان جذبات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ خاموش رہتے ہیں۔ یہ دونوں ایسے جذبات ہیں۔ جو افراد میں عموماً اپنے سے کم تر اور کمزور لوگوں کو دیکھ کر پیدا ہوتے ہیں۔
لوگ ان جذبات کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ کبھی اپنے ہم پلہ لوگوں کے ساتھ کمزور لوگوں کے مسائل کے بارے میں گفتگو کر کے۔ اور کبھی ان لوگوں کی مشکلات کو حل کر کے انہیں آسانی مہیا کر کے۔ کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمدردی کے جذبے سے سرشار تو ہوتے ہیں۔ مگر یا تو مدد کر نہیں پاتے۔ بلکہ بعض اوقات مسئلہ سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی مسئلہ دریافت کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
کیا ہمدردی اور مدد ایک ہی جذبے کے دو نام ہیں۔ یا دونوں میں کوئی فرق ہے۔ یہ وہ حیرت انگیز سوال ہے جو انسانی رویوں اور جذبات پر غور و فکر کرنے والے افراد کے ذہنوں میں ضرور ابھرتا ہے اور وہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ آئیے باری باری ان دونوں جذبات کو سمجھتے ہیں۔
ہمدردی کیا ہے؟ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی فرد میں اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ کسی ایسے فرد کو دیکھتا ہے جو اس کے مقابلے میں کمزور اور کم حیثیت ہو۔
مثال کے طور پر جب ایک آسودہ حال شخص اس کی بنیادی ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کی دیگر خواہشات اور آرزوئیں با آسانی پوری ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایسے شخص کو دیکھتا ہے جس کی آمدنی اتنی بھی نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کر سکے۔ وہ ہر لمحہ خوراک، لباس اور رہائش کے مسئلے کے بارے میں سوچ کر پریشان اور فکرمند رہتا ہے۔
ایسے غریب شخص کو دیکھ کر وہ طرح طرح کے خیالات کے بارے میں سوچنے میں گم ہو جاتا ہے۔ آیا یہ لوگ کیسے مشکل سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں انہیں کھانا بھی نصیب ہوتا ہو گا یا نہیں؟ پتہ نہیں ان کے پاس موسم کی شدت سے بچنے کے لیے مناسب لباس اور رہائش کی سہولیات ہوں گی یا نہیں؟
اسی طرح جب عام لوگ کسی جسمانی معذور شخص کو دیکھتے ہیں جو اپنے جسم کو صحیح حرکت دینے سے قاصر ہو۔ ایسے افراد کو دیکھ کر بھی حساس طبیعت کے مالک لوگ طرح طرح کے خیالات پر غور و فکر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آیا یہ چلتے پھرتے کیسے ہوں گے۔ کھانا پینا کیسے کرتے ہوں گے۔ ان کی تیمارداری اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے اور خود ان کے لیے کتنی بڑی آزمائش ہے۔
ہمدردی کے احساس سے لبریز شخص جب دریا کی روانی کی طرح اپنے ذہن میں آنے والے سوالات پر غور و فکر کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر ایک اور کیفیت اور جزبہ جنم لیتا ہے جو مدد کہلاتا ہے۔
مدد انسان کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جس کے تحت وہ کسی مشکل میں گھرے انسان کو سہولت فراہم کر کے اس کی مشکل کو آسانی میں بدلتا ہے۔ مدد کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ جیسے اخلاقی، علمی اور مالی مدد وغیرہ۔
مالی مدد تو یہ ہے کہ انسان کسی غریب، ضرورت مند کی مدد روپے پیسے سے کرے۔ تاکہ اس کی بنیادی ضروریات زندگی پوری ہو سکیں۔ جس کے بعد وہ اپنی دیگر خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوۓ اپنی زندگی کو آسان اور پرسکون بنا سکے۔
علمی مدد یہ ہے کہ طلبہ اپنے ہم جماعتوں میں ادنٰی یا کند ذہنیت کے حامل طلبہ کی تعلیمی مدد کریں۔ تعلیمی نصاب کو سمجھنے، یاد کرنے کے سلسلے میں ان کے لیے آسانی پیدا کریں۔
اخلاقی مدد یہ ہے کہ مظلوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف موثر آواز بلند کی جاۓ۔ ہر موقع پر اس کا ساتھ دیا جاۓ۔ ظالم کو تنبیہ کی جاۓ کہ وہ اپنے ظلم سے باز آۓ۔ ایسی اخلاقی مدد سے مظلوم کو نفسیاتی اور روحانی تکلیف سے نجات مل سکتی ہے۔
اخلاقی مدد کی دوسری صورت یہ ہے کہ اگر انسان کسی ایسے شخص کو دیکھے جس میں قدرتی طور پر کوئی جسمانی نقص ہے۔ اگر اسے اس وجہ سے کسی مشکل کا سامنا ہے تو اس کی اس مشکل کو رضاۓ الٰہی کی خاطر حل کر دیا جاۓ تاکہ وہ خوش ہو جاۓ۔
مختصر یہ کہ ہمدردی دل کے اندر پیدا ہونے والا احساس ہے۔ جبکہ مدد اس احساس کا عملی اظہار ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان لوگوں سے ہمدردی ضرور کرے لیکن انھیں حقارت کا احساس نہ دلاۓ۔ ان کی دل آزاری سے گریز کرے۔ اور اپنے دلی جذبے کا عملی اظہار مدد کی صورت میں ضرور کرے لیکن مدد کرنے سے پہلے اس بات کی اچھی طرح تحقیق کر لے واقعی یہ شخص مدد کا مستحق ہے یا بہروپیہ ہے۔ تاکہ مدد صرف اور صرف مستحقین کی ہو اور انھیں فائدہ پہنچے۔
علاوہ ازیں جن افراد کی مدد کی جاۓ۔ انہیں ساتھ ساتھ خود محنت اور جدوجہد سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آمادہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جاۓ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہماری ہمدردی اور مدد اس کی زندگی پر جمود اور انحطاط طاری کرنے کا باعث بنے۔
خلاصہ یہ کہ ہمدردی دل کے اندر جلنے والی ایک شمع ہے۔ جو ہمارے دل کو نرم کرتی ہے۔ ہماری داخلی دنیا میں تبدیلی لاتی ہے۔ جبکہ مدد اس شمع سے نکلنے والی روشنی کا عملی اظہار ہے۔ اور یہی اظہار خارجی اور سماجی زندگی میں لوگوں کی زندگیوں کو پرسکون اور پرآسائش بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب تک معاشرے میں ہمدردی کے جذبے سے لبریز لوگ مستحقین کی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ تو معاشرے میں محبت، مروت اور خلوص جیسی اقدار پروان چڑھتی رہیں گی۔ اور لوگوں کی زندگیاں سہل اور آسان ہوتی چلی جائیں گی۔












One Response
Masha ALLAH
Ap ki tehreeren bohot achi hoti hen