انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے سے تعلق رکھنے والے ہر شخص سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس سے وفادار رہے۔ اس کی یہ خواہش تو اپنی جگہ درست ہے۔ مگر کیا کبھی انسان نے اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ اس کا اپنا سایہ بھی اس وقت تک اس کا ہم قدم رہتا ہے۔ جب تک سورج چمک رہا ہو۔ سورج ڈھلتے ہی اندھیرا ہوتے ہی یہ سایہ جو سارا دن انسان کا ہم سفر تھا۔ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک قدرتی حقیقت ہے۔ بلکہ دور حاضر میں سماجی اور معاشرتی رویوں اور تعلقات کی ناپائیداری کو بیان کرنے کے سلسلے میں پوری طرح صادق آتی ہے۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ تمام انسان اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے پر کسی نہ کسی حد تک ضرور انحصار کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے تعلقات کے دائرے پر نظر دوڑائے تو غور و خوض کرنے کے بعد ہر شخص ضرور یہ کہے گا۔ ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام افراد کسی مقصد اور ضرورت کے تحت ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
ماضی بعید پر نظر ڈالی جائے۔ تو اسے معلوم ہو گا۔ بہت سے افراد تو ایسے ہیں۔ جن سے اب کوئی رابطہ نہیں ہے۔ مخصوص حالات اور مطلوبہ وقت میں تو ان سے روز ملاقات ہوتی تھی۔ مگر ان حالات کے پنجرے سے آزاد ہوتے ہی مراسم بھی ختم ہو گئے۔ انسانی زندگی میں خواہ اس کے اہل و عیال ہوں، رشتے دار ہوں یا دوست احباب ہوں۔ تمام لوگ انسان کے ساتھ خوشی اور غمی دونوں مواقع پر ہوتے ہیں۔ خوشی کے لمحات میں تو انسان کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ جبکہ غم اور دکھ درد میں یہ ہجوم جسمانی طور پر تو ساتھ ہوتا ہے۔ زبانی کلامی تسلیاں بھی دیتا ہے۔ مگر اس سے آگے اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ درد میں مبتلا شخص اس درد کی شدت اور تکلیف کی تپش کو تنہا ہی سہ رہا ہوتا ہے۔ رشتے دار تو پیدائش سے لے کر موت تک ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ جن سے مختلف اوقات میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ جبکہ تعلیمی سفر، نوکری اور اس سلسلے میں دیگر سرگرمیوں کے دوران مختلف افراد سے مختلف اوقات میں واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ یہ لوگ وہ مخصوص حالات اور سرگرمیاں ختم ہونے کے بعد ہم سے دور ہو جاتے ہیں۔ صرف ان کی یادیں ذہن میں محفوظ رہ جاتی ہیں۔ کبھی کبھار جدید مواصلاتی آلات سے ان سے رابطہ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ بھی صرف رسمی طور پر۔
مختصر یہ کہ انسان اپنے رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ خلوص، محبت اور احترام سے پیش آئے۔ ان کی قدر کرے۔ مگر ان سے اس قدر دل نہ لگائے۔ کہ ان سے بچھڑتے ہوئے وہ اپنی ذات کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے فراموش کر دے۔ اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ میں تنہا دنیا میں آیا ہوں۔ تنہا ہی دائمی زندگی کے سفر پر لوٹ جاؤں گا۔ ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ انسان اس بات کو اپنے ذہن میں راسخ کرے۔ کہ یہ تمام تعلقات عارضی ہیں۔ وہ اپنے متعلقین سے تعلق مضبوط اور خوشگوار رکھے۔ لیکن ذہنی اور نفسیاتی طور پر ان تعلقات کے بچھڑنے کے لیے ہر لمحہ تیار رہے۔ تاکہ کبھی ایسا وقت آئے۔ تو وہ اپنی ذات سے بیگانہ نہ ہو۔ اگرچہ وہ اس جدائی کا احساس فطری طور پر تو محسوس کرے گا۔ لیکن اپنی ذہنی اور نفسیاتی تربیت اور مضبوطی کی بنا پر اپنی زندگی کو اپنے لیے فضول اور بے مقصد نہیں سمجھے گا۔ بلکہ یقین رکھے گا۔ یہ قدرت کا دستور ہے۔ انسانی تاریخ میں روز اول سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ایک دن میں بھی اپنے متعلقین کو چھوڑ جاؤں گا۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں ہر رشتے اور تعلق کی قدر کرے۔ مگر انہیں اپنے دکھ سکھ کا مکمل آسرہ اور بے ساکھیاں نہ سمجھیں۔ حقیقی تعلق اپنے پروردگار سے استوار کرے۔ اس کے بعد اپنی ذات کو اہمیت دے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے۔ اور انہیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے۔











