دنیا میں انسان کی پہچان کس حوالے سے ہونی چاہیے؟ نام سے، خاندان سے آبا و اجداد کے کارناموں سے، یا اعلٰی منصب اور عہدے سے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر دور میں عوام و خواص کے پیش نظر کسی نہ کسی موقع پر ضرور آتا ہے۔ یہ سوال محض نظری نہیں۔ بلکہ سنجیدہ اور فکرمند افراد کی عملی زندگی کے مقام اور مرتبے کا تعین کرتا ہے۔ آئیے اس بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔
ہر انسان جب دنیا میں آتا ہے۔ تو اسے پہچان دینے کے لیے کوئی نہ کوئی نام دیا جاتا ہے۔ یہ نام فقط اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔ اگرچہ اسے ساری زندگی اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔
مگر وسیع مشاہدہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ فرد کا یہ ذاتی نام صرف اسے دنیاوی زندگی میں پہچان ضرور دیتا ہے۔ مگر موت کے فوراً بعد سب اس کے مردہ جسم کو لاش اور میت کہنے لگتے ہیں۔ کچھ دن تک اس کے عزیز و اقارب اور جاننے والے اس کا نام ذکر کرتے ہیں۔ پھر اس کا نام ایسے گم ہو جاتا ہے۔ جیسے وہ کبھی اس دنیا میں موجود ہی نہ تھا۔
روز اول سے انسان کی پیدائش اور موت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس دار فانی میں اربوں انسان آئے اور چلے گئے۔ اکثر کی تو قبور کے نشان بھی معلوم نہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہیں۔ اور اس کی وجہ ان کے سنہری کارنامے ہیں۔
اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں انسان کی پہچان اس کے نام سے نہیں۔ بلکہ کردار اور کارناموں سے پیدا ہوتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ کے اوراق میں انہیں افراد کے نام سنہری حروف سے ممتاز رقم کیے جاتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے کردار اور عمل کی بنیاد پر کوئی ایسا فریضہ سر انجام دیا ہوتا ہے۔ جس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے۔
ادب کے میدان میں نظر دوڑائی جائے۔ تو آج انہی ادیبوں اور شاعروں کا نام زندہ ہے۔ جنہوں نے علم و فکر کا چراغ جلایا۔
آج علامہ اقبال کا نام صرف نام علامہ اقبال ہونے کی وجہ ہی سے ادبی دنیا بلکہ پورے عالم میں نہیں گونجتا۔ بلکہ اس کی حقیقی وجہ ان کی فلسفیانہ سوچ اور فکر ہے۔ جسے انہوں نے اپنی شاعری اور دیگر تخلیقات میں پیش کیا۔ آج ان کی یہ شاعری تقریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود ان کی سوچ اور فکر کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
سیاست کے میدان میں دیکھا جائے تو حضرت عمر فاروقؓ کا نام بھی ان کے شاندار کار حکومت کی وجہ سے زندہ ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی ریاست میں امیر غریب ادنٰی اعلٰی ہر شخص کے لیے یکساں قانون بنایا۔ اور ہر شخص تک بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
اسی طرح فلاح عامہ کے میدان میں عبدالستار ایدھی کا نام بھی خدمت خلق کی وجہ سے ان کی وفات کے بعد بھی زندہ ہے۔ انہوں نے بھی رنگ، نسل، مذہب، زبان اور جنس کی تفریق کے بغیر سب کو ضرورت کے وقت بے لوث مدد اور تعاون فراہم کیا۔
غرض یہ کہ تاریخ کے تمام نامور افراد صرف اپنے کردار اور کارناموں کی وجہ سے زندہ ہیں۔
دور حاضر میں نوجوان نسل اپنی تاریخ سے خائف ہے۔ وہ شناخت کے حقیقی معیار سے ناواقف ہے۔ آج کے نوجوان، بنگلہ، گاڑی، ٹیکنالوجی کے مہنگے سے مہنگے جدید ترین آلات، مہنگے سے مہنگے لباس اور دیگر ظاہری شان و شوکت کی موجودگی کو اپنی شناخت کا معیار بنائے ہوئے ہیں۔ بعض تو اسی شان و شوکت کی مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر نشر و اشاعت کو ذریعہ روزگار بھی بنائے ہوئے ہیں۔
اگرچہ وہ اپنی اس چمک دمک اور نجی زندگی کی تشہیر سے کثیر روپیہ پیسہ تو کما رہے ہیں۔ شہرت بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس شہرت اور پیسے کی لالچ نے انہیں صحیح غلط کی تمیز سے بالکل بیگانہ کر دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذریعہ انہیں اس عارضی زندگی میں تو بہت مشہور کروا دے گا۔ بہت سے لوگ انہی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے مشہور اور مالدار ہو بھی چکے ہیں۔
مگر یاد رہے۔ یہ چمک دمک اپنے اندر گہری تاریکی چھپائے ہوئے ہے۔ یہ بہار بظاہر خوبصورت لگ رہی ہے۔ مگر یہ آخر کار خزاں میں ضرور بدلے گی۔
یہ تمام زندہ لوگ جو آج انہی آن لائن ذرائع اور شورٹ کٹ طریقے اختیار کر کے بے مقصد اور لغو مواد کی تشہیر سے سوشل میڈیا کے جگمگاتے ہوئے تارے بنے ہوئے ہیں۔ کل موت کے بعد ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہو گا۔
کیوں کہ تاریخ کا دستور ازل سے یہی ہے کہ وہ انہی افراد کو زندہ و جاوید رکھتی ہے۔ جو اپنے کردار اور عمل سے آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیے اپنی زندگی میں کوئی بیج بوتے ہیں۔ پھر اس بیج سے اگنے والے درخت کے سائے اور پھل سے عرصہ دراز تک لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ نو جوان نسل حصول علم پر اپنی طاقت اور توجہ صرف کرے۔ جستجو، تفکر، تدبر، تحقیق اور تنقید جیسی ذہنی صلاحیتوں کو اپنے ذہن میں دوبارہ بیدار کرے۔ مختلف امور زندگی میں انہی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف معاملات کو سلجھائے۔
مزید یہ کہ زبان سے صرف خوبصورت دعووں اور مثالی باتیں نہ کرے۔ بلکہ ان دعووں کو اپنے کردار اور عمل سے پیش کر کے حقیقی صورت عطا کریں۔
حقیقی شناخت پیدا کرنے کے لیے محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے کام کرے۔
یہ بات یاد رکھے کہ ذاتی نام اور خاندان صرف اس دنیا میں پہچان کے ہتھیار ہیں۔ مگر مرنے کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ مرنے کے بعد انسان صرف لاش اور میت جیسے ناموں سے ہی پکارا جاتا ہے۔
مگر وہ لوگ جو اپنی زندگی میں محنت، لگن، جدوجہد، خلوص اور خدمت خلق کا چراغ جلائے رکھتے ہیں۔ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد آئندہ آنے والی نسلیں بھی رہتی دنیا تک ان کا نام روشن چراغ کی طرح چمکدار اور زندہ رکھتی ہیں۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ نام سے زیادہ اپنے کردار اور عمل سے اپنی مضبوط اور پختہ شناخت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ جب وہ خلوص، لگن، محنت، جدوجہد اور خدمت خلق جیسے بیجوں سے اپنی زندگی کی کھیتی کی آبیاری کرے۔
خلاصہ یہ کہ انسان کا اصل نام صرف وہی ہے جو اسے اپنے کردار اور عمل کی بنیاد پر دوسروں سے ممتاز بنائے۔ اور موت کے بعد زندہ رکھے۔











