Asfiya Nourine

شہرت اور مقبولیت میں فرق

شہرت اور مقبولیت میں فرق

شہرت اور مقبولیت دونوں معاشرے میں استعمال ہونے والی ایسی اصطلاحات ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی میں بھی گاہے بگاہے کسی نہ کسی حوالے سے استعمال ہوتی رہتی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا شہرت اور مقبولیت دونوں مماثل ہیں؟ اگر ہیں تو کیسے؟ اگر شہرت اور مقبولیت دونوں میں فرق ہے تو کیا؟ یہ بڑے فکر انگیز اور گہرے سوالات ہیں۔ آئیے باری باری ان پر نظر ڈالتے ہیں۔

شہرت سے مراد کسی شخص کا عوام و خواص میں مشہور ہونا۔ یعنی وہ مطلوبہ شخص اپنی کسی خاصیت یا خامی کی وجہ سے اس قدر عوام و خواص میں جانا جانے لگے کہ ہر بچہ، بوڑھا، مرد، عورت غرض کہ ہر شخص اس کا نام سنتے ہی اسے پہچان جائے۔

شہرت صرف مثبت نہیں ہوتی بلکہ منفی معنوں میں بھی ہوتی ہے۔ یعنی بعض افراد مثبت کاموں جیسے ملک و قوم کی خدمت کر کے یا فوجی افسران جو دہشت گردی کے قلع قمع کی خاطر جام شہادت نوش کر کے شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔ لوگ ایسے مثبت کاموں کے ذریعے مشہور ہونے والوں کی قدر کرتے ہیں۔ انھیں خراج تحسین اور عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اس کے برعکس بعض لوگ منفی کاموں جیسے چوری، ڈکیتی یا دیگر تخریبی کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔ قانونی کارروائی کے نتیجے میں جب ان کے نام سامنے آتے ہیں تو ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بارہا ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بار بار ذکر کی وجہ سے یہ مجرمین بھی شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر ان کی یہ شہرت منفی ہوتی ہے۔ لوگ جب بھی ان کا ذکر کرتے ہیں تو منفی معنوں میں کرتے ہیں۔ ان سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

مقبولیت سے مراد کسی شخص کا معاشرے کے مختلف طبقات میں مشہور ہونا اپنی شخصیت اور کردار کی اچھی خوبیوں کی وجہ سے۔ مقبول شخص کو نہ صرف عوام و خواص جانتے ہیں بلکہ عوام و خواص کی کثیر تعداد دلی طور پر پسند بھی کرتی ہے اور اس مقبول شخص کو اپنے لیے مثالی نمونہ بھی تسلیم کرتی ہے۔

مجموعی طور پر شہرت اور مقبول ہونا اگرچہ ایک دوسرے سے مماثل ہیں مگر شہرت مثبت اور منفی دونوں حوالے سے ہو سکتی ہے۔ جبکہ مقبولیت صرف اور صرف مثبت معنوں میں ہوتی ہے۔

دور جدید میں ہر شخص شہرت حاصل کرنے کے چکر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس شہرت کا مقصد صرف اور صرف پیسہ حاصل کرنا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ شہرت اور مقبولیت کے فرق کو سمجھیں۔ اس حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز پر آگہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ شہرت سے زیادہ مقبولیت کے خواہاں ہو۔ سوشل میڈیا صارفین اور سامعین و ناظرین کو بھی چاہیے کہ وہ مثبت، تعمیری اور معیاری مواد کو آن لائن پلیٹ فارمز پر جاری کریں اور اسی مثبت، تعمیری اور معیاری مواد کو پھیلائیں تاکہ شہرت کی بجائے مقبولیت حاصل ہو اور قوم کا اخلاقی اور نظریاتی معیار بلند ہو۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *