تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس پر کسی بھی فرد، معاشرے، ملک اور قوم کی ترقی کی بنیاد استوار ہے۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو جس قدر مضبوط اور طاقتور ہو گی ملک، قوم اور معاشرہ اسی قدر بلند پرواز کر سکے گا۔ آج تک دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ قومیں گزری ہیں اور دور حاضر میں موجود ہیں انہوں نے اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر طلبہ کی بہترین تربیت کی تاکہ وہ ملک کے بہترین شہری اور معاشرے کے مفید فرد بن سکیں۔
کیا ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ ہماری موجودہ نسل اس تعلیمی نظام کے تحت مخصوص شعبوں میں تعلیم حاصل کر کے آئندہ ملک کے لیے کار آمد خدمت سر انجام دے سکیں گے۔ گہرا تجزیہ اور مشاہدہ کرنے کی روشنی میں جواب نفی میں ملتا ہے۔ نہیں بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہمارا تعلیمی نظام بظاہر مضبوط اور بہتر دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے اس تعلیمی نظام کے تحت کچھ عرصے تک اس کا براہ راست مشاہدہ اور تجزیہ کرنے سے اس کی بہت سی خامیاں نظر آتی ہیں۔
ہمارے ہاں ہر مضمون کے لیے الگ کتاب مختلف ماہرین تعلیم کی نگرانی اور مشورے سے مرتب و مدون کی جاتی ہے۔ ایک دفعہ کتاب مرتب ہو جائے تو سال ہا سال تک اس پر نظر ثانی کر کے اسے جدید معلومات کی روشنی میں مرتب نہیں کیا جاتا۔ طلبہ کے ذہن میں لاشعوری طور پر یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ڈگری کے نام پر کاغذ کا ٹکڑا حاصل کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے نہ صرف امتحان پاس کنا ضروری ہے بلکہ اس امتحان میں اعلٰی نمبر حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
طلبہ اس سوچ کے تحت تعلیمی نصاب کو سمجھ کر پڑھنے، سمجھنے کی بجائے مطلوبہ تعلیمی نصاب کو بغیر سوچے سمجھے سو فیصد حفظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ طلبہ جن کا حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے اعلٰی نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ ان سے اس کا لب لباب پوچھا جائے تو کچھ بھی بتانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ طلبہ جن کا حافظہ تھوڑا کمزور ہوتا ہے لیکن وہ رٹا لگانے کے بجائے نصاب کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں کسی کے پوچھنے کے جواب میں وہ طلبہ زبانی طور پر مطلوبہ نصاب کو اچھی طرح بیان کرنے پر قدرت بھی رکھتے ہیں لیکن امتحان میں لکھے گئے مواد کی روشنی میں انہیں اتنے اچھے نمبر نہیں مل سکتے جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے اندر موجود دیگر خداداد صلاحیتوں کو بھی کام میں نہیں لاتے۔
علاوہ ازیں اساتذہ کمرہ جماعت میں طلبہ کو کتاب میں موجود نصاب کو ہی پڑھاتے رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت محدود وقت سے لڑتے نظر آتے ہیں کہ اس کم سے کم مدت میں یہ طویل نصاب کیسے مکمل کروایا جائے؟ اساتذہ خود بھی اور ان کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی اسی فکر میں مصروف نظر آتے ہیں کہ کم سے کم مدت میں جلد از جلد نصاب کا رٹا لگا کر ذہن نشین کر لیا جائے تاکہ امتحان میں اعلٰی نمبروں سے کامیابی حاصل کی جا سکے۔ اسی جلد بازی میں اساتذہ صرف اور صرف کتابی نصاب پر مشتمل لیکچر دیتے ہیں اور طلبہ بھی اسی جلد بازی میں اکتاہٹ کا شکار ہو کر محض وقت گزاری اور بہترین گریڈ کی لالچ میں رٹا لگانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
مزید براں ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی تربیتی اور عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ اکثر و بیشتر طلبہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے نصابی سرگرمیوں کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے اور نہ ہی اپنے اندر موجود دیگر صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ان سے اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر و نشو و نما میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے موجودہ نظام تعلیم کے ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں۔ اساتذہ کے لیے تربیتی ورک شاپس منعقد کی جائیں اور ان کے ذریعے انہیں جدید تدریسی طریقوں کی تربیت دی جائے۔ طلبہ کو یہ باور کروایا جائے کہ کسی بھی مخصوص شعبے میں تعلیم حاصل کر کے اور مطلوبہ شعبے میں مہارت حاصل کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اپنی دیگر خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انہیں اپنی شخصیت کی تعمیر و ترقی میں بروئے کار لانا چاہیے۔
طلبہ کو امتحان میں اعلٰی نمبر حاصل کرنے کے لیے ان تھک محنت اور کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھنا چاہیے صرف اور صرف کتابی دنیا تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اپنے آپ کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ موجودہ دور کے طلبہ مستقبل میں معاشرے کے مفید فرد ہونے کے ساتھ ساتھ ملک اور قوم کے لیے کوئی بہترین خدمت سرانجام دے کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں اور ملک اور قوم ان کی خدمات کی بدولت ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔











