Asfiya Nourine

باعلم شخص دنیا کی نظر میں مغرور

باعلم شخص دنیا کی نظر میں مغرور

کیا علم واقعی انسان میں غرور اور تکبر پیدا کرتا ہے؟ یا یہ محض معاشرے میں مشہور مقولہ ہے کہ جو بھی شخص باعلم اور ڈگری یافتہ ہو گا وہ ضرور انا پرست، سخت گیر اور مغرور ہو گا۔ دنیا میں ہر شخص خواہ وہ باعلم ہو یا نہ ہو، ہنر مند ہو یا نہ ہو مرد ہو یا عورت اس کی شخصیت اور مزاج مختلف جذبات، احساسات، نظریات اور تصورات کا مجموعہ اور مظہر ہوتی ہے۔ ہر شخص کی مختلف عادات اور اطوار ہوتی ہیں۔ یہ عادات و اطوار اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی۔ بعض اوقات اس کی کچھ اچھی عادات جو حقیقتاً اچھی ہوتی ہیں سامنے والے ان افراد کو جن سے مطلوبہ شخص کی عادات و اطوار مطابقت رکھ رہی ہوتی ہیں وہ اس شخص کو اچھا قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بیک وقت دوسرا گروہ جس کی سوچ اور نظریات مختلف ہوتے ہیں وہ اس شخص کی انہی اچھی عادات کو ناپسند کرتے ہوئے اس کے بارے میں منفی تبصرے کرتا ہوا سنائی دیتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باعلم شخص حقیقی طور پر کون ہوتا ہے؟ عام طور پر معاشرے میں اس شخص کو باعلم شخص سمجھا جاتا ہے جو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر چکا ہو اور اسے اپنے اداروں سے سند بھی مل چکی ہو۔ اب اس بات سے قطع نظر کہ اس شخص کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تو آ چکی ہیں مگر اس کے پاس اخلاقیات کا کوئی علم نہیں۔ عوام کو تو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ تو صرف یہی جانتے ہیں کہ یہ شخص یونیورسٹی سے سند یافتہ ہے۔ ہم سے اونچا مقام رکھتا ہے۔

بات یہ ہے کہ اگر صاف پانی کے جگ میں ایک قطرہ بھی گندے پانی کا ملایا جائے تو وہ سارے پانی کو گندا کر دیتا ہے۔ اب دیکھنے والے جگ میں موجود پانی کو صاف نہیں کہیں گے بلکہ وہ اسے گندا ہی تصور کریں گے۔ کیوں کہ گندا پانی صاف پانی پر غالب آ گیا۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ اچھائی اور برائی دونوں دیکھتا ہے مگر وہ برائی کا پرچار زیادہ کرتا ہے جس کی وجہ سے اچھائی چھپ جاتی ہے۔

باعلم افراد میں ان کی ایک صفت ان کا اہلِ علم ہونا تو مشترک ہے لیکن ہر شخص کی شخصیت، مزاج اور طبیعت دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے۔ باعلم افراد ہجوم کے ساتھ صحیح کو صحیح تو کہہ دیتے ہیں لیکن وہ غلط کو اس ہجوم کے ساتھ صحیح ہرگز نہیں کہتے۔ وہ ہمیشہ اپنے علم کی وجہ سے تحقیق، تجسس اور گہرے غور و فکر اور مشاہدے کے بعد مختلف چیزوں کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں۔ ان کی رائے موزوں اور مدلل ہوتی ہے۔

بعض با علم افراد کم گو اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہ موقع و محل کے مطابق ضرورت کے تحت کلام کرتے ہیں۔ غیر ضروری بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ لوگ ان کے اس رویے کو انا پرستی، متکبرانہ لہجے اور مغرور مزاج سے تعبیر کرتے ہوئے اس شخص کے بارے میں منفی سوچ اور رویے کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ وہ شخص اپنے علم کی روشنی میں بالکل درست کر رہا ہوتا ہے۔ اس پر اس کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے۔

بعض اوقات عوام باعلم شخص سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ عام لوگوں میں مشہور کسی رائے کی ضرور تائید کرے گا جو غلط ہے۔ مگر ان کی نظر میں درست ہے۔ جب باعلم شخص اس رائے کے بارے میں منفی پہلوؤں سے آگاہ کرتا ہے تو لوگ اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ تمام باتیں ان کے مزاج اور طبیعت کے موافق نہیں ہوتیں۔

مختصر یہ کہ جب تک علم کو اسناد سے جانچا جاتا رہے گا تب تک حقیقی علم رکھنے والے چہرے معاشرے کی نظر میں متکبر سمجھے جاتے رہیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں آگہی اور شعور پھیلایا جائے کہ باعلم شخص صرف سکول، کالج اور یونیورسٹی سے سند حاصل کرنے والا شخص ہی نہیں بلکہ وہ تمام افراد جنہیں یہ شعور ہے کہ کہاں، کب کتنا بولنا ہے؟ کیا بولنا ہے؟ موقع و محل کے تقاضے کے مطابق گفتگو کا ہنر ان میں موجود ہو۔ ان تمام مذکورہ صلاحیتوں کے حامل افراد با علم شمار کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو عاجزی، انکساری، سنجیدگی، غرور اور تکبر کی درست تعریفیں اور رویوں کی پہچان ہونی چاہیے۔ تاکہ با علم افراد کی تذلیل کو روکا جا سکے۔ علاوہ ازیں، اہل علم افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے علم کی روشنی میں عوام کے سامنے اچھے اخلاق اور رویے کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ عوام میں موجود غلط فہمیاں رفع ہو سکیں۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *