کمپیوٹر جدید دور کی اہم ترین ایجاد ہے۔ اس نے زندگی کے تمام امور میں واضح تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اس کا استعمال دنیا کے تمام شعبوں میں ناگزیر ہے۔ کیا ہر شخص کاروبار زندگی میں اہم ترین حیثیت رکھنے والی اس ایجاد کے استعمال سے واقف ہے؟ صرف یہی نہیں کیا ہر شخص کو اس ایجاد تک رسائی حاصل ہے؟ یہ توجہ طلب سوالات ہیں۔ آئیے ذیل میں اس بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔
پہلے پہل تعلیمی نظام پر نظر ڈالی جائے۔ خواہ وہ سکول ہو یا کالج ہو۔ جماعت اول سے لے کر جماعت ہشتم تک کمپیوٹر کو لازمی مضمون کا درجہ حاصل ہے۔ جبکہ جماعت نہم سے لے کر بارہویں جماعت تک اسے اختیاری مضمون کی حیثیت تو حاصل ہے۔ مگر طلبہ کی اکثریت اسی مضمون کو پڑھنا پسند کرتی ہے۔
یہ تو خوش آئین بات ہے کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں کمپیوٹر کی کتاب لازمی ہے۔ مگر اس کے نصاب کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت سی خامیاں ہیں۔ جن کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
کمپیوٹر کی نصابی کتب میں وہ تمام معلومات شامل کی گئی ہیں۔ جن میں زیادہ تر کمپیوٹر کی ساخت، تشکیل، بناوٹ کی وضاحت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جن شخصیات نے اس کی ایجاد میں اپنی خدمات سر انجام دیں ہیں۔ ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ نصاب اگرچہ دلچسپ اور نظری معلومات پر تو مشتمل ہے۔ لیکن اس کا امتحان دینے کے علاوہ عملی زندگی میں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہے۔
نصاب کے علاوہ اگر تعلیم و تعلم کی بات کی جائے۔ تو اس نصاب کی تدریس پر مامور اساتذہ اکثر و بیشتر خود نہ تو نصاب کے بارے میں واضح اور مکمل علم رکھتے ہیں۔ نہ تو احسن طریقے سے طلبہ کو یہ نصاب پڑھا سکتے ہیں۔ نتیجتاً وہ کتاب میں دی گئی معلومات کو فقط خود پڑھ کر یا طلبہ سے جماعت میں باری باری پڑھوا کر مشق میں دیے گئے سوالات کے جوابات کے نشانات تو لگوا دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو یہ بات بھی ذہن نشین کروا دیتے ہیں۔ کہ ان جوابات کو اچھی طرح یاد کر لیں تو امتحان اچھا ہو جائے گا۔ اچھے نمبر آ جائیں گے۔ مختصر یہ کہ یاد کر کے ان معلومات کو ذہن میں محفوظ کر لیں۔ پھر امتحان میں مطلوبہ سوال کا جواب من و عن جس طرح کتاب میں درج ہے۔ امتحانی پرچے میں تحریر کریں۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل ہوں گے۔ اور اچھے گریڈز اور پوزیشن حاصل ہو جائے گی۔
دوسری طرف طلبہ کی بات کی جائے تو ان کی تمام تر توجہ اور محنت زیادہ سے زیادہ نمبر اور اچھے گریڈز حاصل کرنے پر ہوتی ہے۔ وہ اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ساری محنت صرف کرتے ہیں۔ ان کی اس ان تھک محنت اور کوشش کے نتیجے میں انہیں اعلٰی نمبر تو حاصل ہو جاتے ہیں۔ لیکن امتحان دینے کے بعد یہ معلومات ان کے ذہن سے اس طرح نکلتی ہیں۔ گویا انہوں نے کبھی پڑھا ہی نہیں تھا۔
کمپیوٹر کی تقریباً تمام کتب اور اساتذہ کے انداز تدریس میں طلبہ کو کہیں بھی عملی زندگی میں کمپیوٹر کا استعمال نہیں سکھایا جاتا۔ نہ اس کی اہمیت اور افادیت سے روشناس کروایا جاتا ہے۔
اگرچہ ہمارے تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر لیبز تو موجود ہیں۔ جن کا مقصد طلبہ کو کمپیوٹر کے عملی استعمال سے آراستہ کرنا ہے۔ مگر بد قسمتی سے یہ لیبز یا تو بند رہتی ہیں۔ اگر کہیں کہیں کھلتی ہیں۔ اور اساتذہ طلبہ کو عملی تربیت کے لیے لیب میں لے جائیں۔ تو لیب میں موجود اکثر و بیشتر سسٹم ہی کام نہیں کرتے۔ یا وہ اتنے پرانے ہوتے ہیں کہ ان میں جدید سافٹ ویئرز وغیرہ سے ہم آہنگی کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔
اس سارے سلسلے کے ساتھ ساتھ مختلف سوشل میڈیا ایپس اور سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں نے طلبہ کو کمپیوٹر کا عملی استعمال سکھانے کے لیے شورٹ کورسز کا اجرا کر رکھا ہے۔ یہ کورسز سود مند تو ہیں۔ مگر صرف ان طلبہ کے لیے جنہیں ان اداروں تک رسائی حاصل ہے۔
یہ ادارے تو عملی زندگی میں کمپیوٹر کے استعمال کے حوالے سے طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں۔ انہیں اس میدان میں عملی مہارتیں سکھا رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ طلبہ اپنے ذاتی شوق، جستجو اور محنت کے نتیجے میں ان اداروں سے وابستہ ہو کر کمپیوٹر کا عملی استعمال سیکھنے میں مصروف ہیں۔ مگر جو فائدہ تعلیمی اداروں سے طلبہ کو پہنچنا چاہیے وہ نہیں پہنچ رہا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر کے اساتذہ کے لیے ٹریننگ سیشنز منعقد کیے جائیں۔ تاکہ انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کمپیوٹر کے استعمال سے آگاہی فراہم کی جا سکے۔ انہیں جدید اور موثر طریقہ ہائے تدریس سے واقفیت دلائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو صرف نصابی کتاب میں بیان کردہ نظری معلومات ہی فراہم نہ کی جائیں۔ بلکہ طلبہ کو بتایا جائے۔ کہ نظریاتی تعلیم سے زیادہ عملی تربیت اور مہارتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ جو مستقبل میں آپ کی عملی زندگی کو سنوارنے اور پر سکون بنانے میں مدد دیں گی۔
ان تمام اقدامات کے نتیجے میں طلبہ کا طبقہ کمپیوٹر کے استعمال سے واقف ہو گا۔ رفتہ رفتہ اس شعبے میں ماہر ہو گا۔ اس مہارت کے صلے میں نہ صرف اس کی ذاتی زندگی بہرہ ور ہو گی۔ بلکہ ملک و قوم بھی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ مزید یہ کہ وہ جس شعبے سے مستقبل میں روزگار کے حصول کے لیے منسلک ہو گا۔ وہ بھی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ یوں کمپیوٹر کی تعلیم صرف ڈگری اور کاغذ تک محدود نہیں رہے گی۔ بلکہ عملی زندگی میں موثر اور سودمند ثابت ہو گی۔











