Asfiya Nourine

وقت اور اس کی اہمیت

وقت اور اس کی اہمیت

وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے جو ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسی دولت ہے جو نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی ادھار لی جا سکتی ہے لیکن اس کا درست استعمال زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وقت کی کوئی شکل ہے یا نہیں؟ جی ہاں وقت کی دو شکلیں تصور کی جا سکتی ہیں جس سے انسان کو وقت کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ اول شکل تو وقت کا ایک لکیر کی شکل میں ہونا ہے جس میں وقت ایک سیدھی لکیر کی صورت میں جاری اور ساری ہے ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ وقت کی دوسری شکل دائروی ہے جس میں وقت گول گول چکر کاٹ رہا ہے اس کی مثال رات دن کے ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے اور موسموں کے بدلنے سے سمجھی جا سکتی ہے۔

ابتدائی دور میں وقت میں بہت برکت تھی لوگ صبح سویرے اٹھتے اپنے مطلوبہ کام کاج کرتے لیکن کام کاج پورے کرنے کے بعد بھی ان کے پاس وقت باقی رہ جاتا۔

دور حاضر میں وقت کی کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہی زندگی ترقی کے نام پر انتہائی تیز رفتار اور مصروف ہو گئی ہے۔ ہر انسان نفسا نفسی کے عالم میں ہے۔ وہ اپنے آپ میں اتنا مگن ہے کہ اسے اپنے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص کا کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ لوگ ماضی اور مستقبل کے بارے میں تو فکرمند ہوتے ہیں لیکن موجودہ لمحے کو کوئی اہمیت اور وقعت نہیں دیتے وہ لمحہ حال کی خوشیوں کو برباد کرتے ہیں کبھی ماضی کی تلخ یادوں کو یاد کر کے اور کبھی مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ ان خطرات کا ذکر کر کے جو ابھی پیش ہی نہیں آئیں۔ ان تمام فکروں میں وہ اپنے موجودہ لمحے کی خوشی کو کھو دیتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے موجودہ لمحے کی قدر کرے اسے اپنے فائدے کے کاموں میں صرف کرے تاکہ وہ اپنے آنے والے وقت کی مشکلات کو آسان کر سکے۔ وہ ماضی کو بھی یاد کرے لیکن اس میں نہ تو کھوئے اور نہ ہی ماضی کی ناکامیوں کو یاد کر کے مایوس اور افسردہ ہو بلکہ ان ناکامیوں سے سبق سیکھے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے۔ لمحہ حال میں پیش آنے والے مسائل سے گھبرانے کے بجائے ان کا حل تلاش کرے۔ مایوس اور اور افسردہ ہونے کے بجائے پر اعتماد رہے زندگی کو بھرپور جیے۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *