Asfiya Nourine

وقارِ شجر

یوں تو قدرت کے تمام مناظر اپنی حسن و خوبصورتی کے باعث آنکھوں کو خیرہ کرنے اور طبیعت کو فرحت بخشنے کا باعث ہیں۔ انہیں میں سے ایک منظر نہر کے کنارے موجود سایہ دار اور پھل دار درخت ہیں۔ یہ درخت جو اپنے سائے اور پھل جیسے انمول فائدے کے سبب آتے جاتے ہر شخص کی نگاہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ کوئی پھل توڑنے کے لیے، کوئی سایہ میں بیٹھنے کے لیے اور کوئی محض فرحت و اطمینان کے حصول کی خاطر اس درخت کے نیچے آ کر بیٹھتا ہے۔ لوگ اس سے فائدہ تو حاصل کرتے ہیں۔ مگر یہ صرف انسان کو فائدہ ہی نہیں پہنچاتا۔ بلکہ سماجی حقیقت اور رویوں کی اصلیت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔

ہر انسان جس کے پاس دولت، شہرت اور عزت کا سرسبز و شاداب درخت موجود ہے۔ اس کے گرد ہر وقت اس سائے میں پناہ لینے والوں کا ہجوم موجود ہوتا ہے۔ مگر جب یہ شخص ناگہانی آفت یا کسی مجبوری لاچاری کے تحت لوگوں کو اس سائے اور پھل سے مستفید کرنا چھوڑ دے تو وہ لوگ جو ہر وقت اس کے گرد پروانے کی طرح گھومتے تھے، اپنی گفتگو میں اس کا چرچا کرتے تھے اس طرح غائب ہو جاتے ہیں گویا کبھی جانتے ہی نہ تھے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی قابل، اہل اور ماہر کیوں نہ ہو۔

انسانی زندگی میں کوئی بھی چیز منجمد نہیں۔ ہر چیز مسلسل تغیر و تبدیلی سے دوچار ہے۔ یہی تغیر و تبدیلی اس کی خوبصورتی کا بھی راز ہے۔

چمن میں سرسبز و شاداب پودے اور درخت بھی بہار کے موسم میں لہلہاتے ہیں۔ مگر خزاں میں ان کی یہ چمک دمک سرسبزی و شادابی ماند پڑ جاتی ہے۔ پتے جھڑ جاتے ہیں۔ شاخیں سوکھ جاتی ہیں۔ اگرچہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہونا چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن یہ درخت، پودے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہیں۔ تنہائی کے خوف سے اپنا وجود نہیں کھوتے۔

دور حاضر میں یہی حالت انسانی رویوں اور تعلقات کی ہے۔ جس شخص کے پاس دولت، شہرت اور عزت و عظمت کا سر سبز و شاداب درخت ہے۔ اس کے گرد لوگوں کا جم غفیر ہے۔

اس کے برعکس وہ شخص جو بظاہر دولت مند اور شہرت یافتہ تو نہیں مگر باصلاحیت اور باکردار ہے، خاموشی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے، وہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل اور تنہائی کا شکار ہے۔

بس حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اہمیت اور وقعت کا پیمانہ اس کی دولت اور شہرت کو نہیں بلکہ اس کی قابلیت، صلاحیت اور اچھے اخلاق و کردار کو بنانا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد کو ان کی دولت شہرت سے نہیں۔ بلکہ ان کی قابلیت، صلاحیت اور مہارت سے پہچاننا چاہیے۔ مزید یہ کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ دولت شہرت کو کامیابی کا ذریعہ نہ سمجھے۔ بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے شعبے میں بہترین خدمات انجام دے۔ یہ سوچ پیدا کرے کہ مجھے ایسا کارنامہ سر انجام دینا ہے کہ اس عظیم کارنامے کے ساتھ میرا نام اور میرے نام کے ساتھ مطلوبہ کارنامے کا ذکر کیا جائے۔

کل سب لوگ اپنے مقاصد اور اہداف کی تکمیل کے بعد رخصت ہو جائیں گے۔ کامیاب افراد کو چاہیے کہ وہ ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار رہیں کہ آج ہمارے ارد گرد موجود جم غفیر دائمی نہیں ہے۔ تاکہ کل تنہا ہونے کی صورت میں وہ ذہنی اور نفسیاتی بحران سے بچ سکیں۔

خلاصہ یہ کہ دولت، شہرت لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنے کا وقتی حربہ اور ذریعہ تو ہے مگر اس سلسلے میں انسان کو ہجوم کی لالچ کے بغیر اپنی صلاحیت اور قابلیت پر توجہ دیتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ جب ایک مرتبہ فرد اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے منظر نامے پر آ جاتا ہے۔ تو نہ صرف اس کے گرد لوگوں کا جم غفیر ہوتا ہے بلکہ اس کی وفات کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں اس کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے اور لوگ اس سے نصیحت، حوصلہ اور ہمت حاصل کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ وہ باصلاحیت اور با کردار اور ماہر افراد جو اپنے مطلوبہ میدان میں تو گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں مگر وہ دولت مند اور شہرت یافتہ افراد کی طرح جم غفیر میں مشہور نہیں۔ یاد رکھیں۔ کہ انسان خود اپنے وجود، صلاحیتوں اور کارناموں کا قدردان ہے۔ لوگ تو محض اس کے سائے اور پھل کے توسط سے سکون و اطمینان کے لالچ میں اس کے پاس آتے ہیں۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *