Asfiya Nourine

نمبروں کے قفس میں قید کامیابی کے خواب

نمبروں کے قفس میں قید کامیابی کے خواب

دور حاضر میں تعلیم کا رجحان پہلے کے مقابلے میں بڑھ چکا ہے۔ آج کی نوجوان نسل کی اکثریت روشن مستقبل کے خواب سجائے یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ جبکہ پاس آؤٹ ہونے والے طلبہ سرکاری، نجی یا آن لائن پلیٹ فارمز پر روزگار کے مواقع کے متلاشی ہیں۔ کچھ افراد اپنی ڈگری کے متعلقہ شعبوں میں اپنی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ ٹیسٹوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔

یہ طلبہ اگرچہ اپنے طے شدہ کامیابی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے حرکت و عمل اور جدوجہد میں مشغول ہیں۔ مگر ان کے گرد و پیش کے بعض افراد کے مفت مشورے، غیر ضروری تبصرے اور الفاظ اور لہجے کی تلخی ان افراد کی مثبت انرجی، حوصلہ اور خود اعتمادی کو کیسے منفی انداز سے متاثر کر سکتی ہے۔ کیا اس سلسلے میں کبھی کسی نے غور کیا ہے۔ آئیے اس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام اور بحیثیت مجموعی گھر اور معاشرے میں طلبہ کی کیریئر کونسلنگ کا باقاعدہ کوئی نظام نہیں۔ طلبہ سکول اور اہلِ خانہ کی مرضی سے نویں جماعت میں مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ پھر ان پر براہ راست یا بالواسطہ وہی روایتی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ کہ اعلٰی سے اعلٰی نمبر لینے ہیں۔

وہ اسی زیادہ نمبروں کے حصول کے لیے ان تھک محنت اور کوشش کرتے ہیں۔ آخر کار دو سال بعد میٹرک کا امتحان پاس ہو جاتا ہے۔ اچھے نمبر آ جائیں۔ تو واہ واہ ہوتی ہے۔ اگر نمبر توقع سے کم آئیں۔ تو مطلوبہ طالب علم کو ارد گرد کے لوگوں کے منفی رویے اور الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے بعد کالج میں داخلے کا مرحلہ آتا ہے۔ اس موقع پر اگر کالج کے میرٹ کے مطابق نمبر ہوں تو اپنے من پسند مضمون میں داخلہ مل جاتا ہے۔ اگر نمبر اس میرٹ سے کم ہوں تو کالج کی مرضی کے مطابق مضامین کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

یہ سلسلہ یونہی یونیورسٹی تک چلتا رہتا ہے۔ طالب علم ساری تعلیمی زندگی اچھے سے اچھے نمبروں کے حصول کے لیے محنت اور کوشش کرتے ہوئے اسی پریشانی میں گزار دیتا ہے۔ اس دوران اس کے ہنر اور مہارت کے حوالے سے اس کی کوئی تربیت نہیں کی جاتی۔ اور وہ زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول کو کامیابی سمجھتے ہوئے اپنی منفرد خداداد صلاحیتوں سے ناواقف رہ جاتا ہے۔

اس کے بعد جب معاشی زندگی میں قدم رکھنے کا موقع آتا ہے۔ تو ہر شخص خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو۔ تجربہ ہو یا نہ ہو۔ رنگ برنگے مشورے دینے لگتا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ میری باتیں اس کے ذہن پر کیا اثر مرتب کر سکتی ہیں۔ اس طرح مشورہ دینے والوں کی اکثریت محض اپنی دلی تسکین چاہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ کہ مطلوبہ طالب علم کو ہمارے مشورے سے کوئی دلچسپی ہے یا نہیں؟ اسے ہماری باتیں مفید اور قابل عمل محسوس بھی ہو رہی ہیں یا نہیں۔

یہ تو عمومی رویہ ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا تو محض وقت کا ضیاع ہے۔ کیوں کہ وہ تو کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ اپنے آپ کو حرفِ کُل سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد کے اس منفی رویے سے صرف وہ طلبہ ذہنی اور نفسیاتی سطح پر متاثر ہوتے ہیں۔ جو اپنے مقاصد کی تکمیل اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یکسوئی سے محنت اور حرکت و عمل کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں طلبہ کو ابتدا ہی سے فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں دیا جاتا۔ نہ اسے رِسک لینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ہر کام کے لیے اسے یہی کہا جاتا ہے۔ تمہیں کیا پتا۔ تم تو الٹا سیدھا کر دو گے۔ جیسے ہم کہہ رہے ہیں۔ ویسا کرو۔ اس کی ذاتی مرضی اور دلچسپی کو اکثر و بیشتر کسی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اس رویے کے ساتھ ہم کیسے اپنی نوجوان نسل سے یہ امید کر سکتے ہیں۔ کہ وہ اپنے حق میں خود اعتمادی سے کوئی فیصلہ لیں گے۔ کیوں کہ ارد گرد کے لوگوں کے منفی رویے اور الفاظ نے تو ان میں یہ اعتماد پیدا ہونے ہی نہیں دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ بڑوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں۔ انہیں اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کرنے دیں۔ زندگی کے مختلف معاملات میں انہیں مشورہ ضرور دیں۔ درست اور صحیح راستے پر گامزن ہونے کے لیے اپنی باتوں اور رویوں سے ان کی ذہن سازی اور رہنمائی بھی کریں۔ انہیں مضامین اور پیشے کے انتخاب کے سلسلے میں خود فیصلہ کرنے کی آزادی دیں۔ کیوں کہ پڑھنا بھی طلبہ نے خود ہے۔ پھر اپنی تعلیم کی روشنی میں متعلقہ شعبے میں اپنی عملی قابلیت سے ترقی کا سبب بھی خود ہی بننا ہے۔

علاوہ ازیں، طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی دلچسپی کے مطابق مضامین اور متعلقہ شعبے کا انتخاب کریں۔ یاد رکھیں اعلٰی نمبر لینا اچھی بات اور نظام کے تحت گزر بسر کرنے کے لیے لازم اور ضروری ہیں۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ یہ اعلٰی نمبر صرف کمرہ جماعت اور ڈگری کے کاغذ پر ہی خوبصورت لگتے ہیں۔ عملی زندگی میں صرف علم، ہنر، مہارت اور قابلیت ہی دیکھی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ طلبہ جو گرد و پیش کے منفی رویوں کو اپنی نفسیات پر سوار کر کے مایوسی، افسردگی کا شکار ہو کر محنت ترک کیے بیٹھے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ خود اعتماد ہو کر اپنی مرضی کے مطابق اپنی صلاحیتیں اجاگر کریں۔ انہیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لائیں۔

یہ بات ذہن نشین کر لیں۔ دنیا میں تمام افراد اپنے اپنے حساب سے بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ خواہ خواندہ ہیں یا ناخواندہ۔ خواندہ افراد میں بھی کوئی تخصیص نہیں کہ ان کے نمبر زیادہ تھے یا کم۔ اپنی زندگی میں کم نمبروں کا دکھ یا زیادہ نمبروں کی خوشی کو اپنی نفسیات پر حاوی نہ کریں۔ کیوں کہ یہ دکھ اور خوشی عارضی ہے۔ حقیقی کامیابی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی کا رخ بدلنا ہے۔ جبکہ حقیقی ناکامی مایوس اور افسردہ ہو کر خود کو بے کار سمجھتے ہوئے خالی ہاتھ بیٹھے رہنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ عیاں ہے۔ دنیا میں انہی افراد کی عزت کی جاتی ہے۔ اور انہیں ہی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ اور تاریخ میں بھی آج تک انہی افراد کا نام زندہ ہے۔ اور سنہری حروف کے ساتھ تحریر کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور ہنر سے ترقی کے جھنڈے گاڑے۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *