Asfiya Nourine

نابینا تعلیم یافتہ افراد، نوکریاں اور سماجی رویے

نابینا تعلیم یافتہ افراد، نوکریاں اور سماجی رویے

کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے تعلیم ایک موثر ہتھیار ہے۔ دور حاضر میں نو جوان نسل میں تعلیم کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ اس سلسلے میں نابینا طلبہ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حصول تعلیم ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ آج کل عزت و تکریم کا سلسلہ اسی سے جڑا ہوا ہے۔ 

 وہ تعلیم سے فراغت کے بعد جونہی عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں۔ تو انہیں انپڑھ اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے تو کیا پڑھے لکھے افراد کی جانب سے بھی ایسے منفی رویے اور کڑوے کسیلے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔ جو نہ صرف انہیں وقتی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ بلکہ بعض رویے اور الفاظ تو ان کی زندگی پر ہمیشہ کے لیے دوررس اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ جن کا احساس مطلوبہ فرد کو گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے۔ 

اگرچہ یہ سلسلہ بحیثیت طالب علم بھی جاری رہتا ہے۔ مگر پیشہ ورانہ زندگی میں یہ اس لیے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ سب کچھ پڑھے لکھے عہدے داروں کی جانب سے ہو رہا ہوتا ہے۔ جو اپنے آپ کو تجربہ کار، خواندہ اور باعلم قرار دیتے ہیں۔ 

یون تو نابینا طلبہ کی تعلیمی زندگی بطور طالب علم اکثر و بیشتر کانٹوں سے لبریز ہوتی ہے۔ یہ کانٹے کڑوے کسیلے الفاظ، منفی رویے اور لوگوں کی عدم آگہی کی بنا پر کیے جانے والے تبصرے ہیں۔ 

ان تمام کانٹوں کو پھلانگتے ہوۓ جب کوئی شخص عملی میدان میں قدم رکھتا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی کے لیے کسی بھی شعبے میں جاتا ہے۔ تو وہاں موجود وہ لوگ جو خود تو اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ اس کے اہل ہیں یا نہیں۔ مگر اس کرسی کو حاصل کرنے کے بعد وہ اسے ذاتی ملکیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ 

وہ ہر نۓ آنے والے نابینا امیدوار سے اس سوال کو تو لازم سمجھتے ہیں۔ کہ آپ کیسے نوکری کریں گے؟ آپ کو تو نظر نہیں آتا؟

ٹیچنگ کے شعبے میں بات کی جاۓ تو اگرچہ حکومت نے سرکاری نوکریوں میں معذور افراد کا کوٹہ تو مقرر کر رکھا ہے۔ مگر اس کوٹے میں صرف ان افراد کا تقرر کیا جاتا ہے۔ جن کے جسمانی اعضا میں تھوڑا سا مسئلہ ہو۔ یعنی ہاتھ، پاؤںیا ٹانگ، بازو وغیرہ میں انسانی سوچ کے مطابق عیب ہو۔ 

اسی طرح نابینا امیدواروں میں صرف انہی امیدواروں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ جو چلنے پھرنے میں خود مختار ہوں۔ 

معذوروں کے کوٹے میں جو پیمانہ اور معیار تقرری کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ بہت سے اہل اور قابل امیدوار نوکری سے محروم ہیں۔ 

آئی ٹی کے شعبے میں بات کی جاۓ تو نابینا افراد کے لیے سکرین ریڈر کی مدد سے کمپیوٹر پر کام کرنا اور موبائل استعمال کرنا بھی تقریباً ممکن ہے۔ مگر یہاں بھی روایتی رویہ اختیار کرتے ہوۓ کہا جاتا ہے۔ کہ آپ کیسے کام کریں گے؟ آپ تو سکرین ہی نہیں دیکھ سکتے۔ اگر آپ سن کے کام کریں گے۔ تو کام تو دیر سے ہو گا۔

مزید یہ کہ اگر کوئی شخص سکرین ریڈر کی مدد سے کمپیوٹر، لیپٹوپ یا موبائل پر کام کر رہا ہو۔ تو اسے کہا جاتا ہے۔ ہم تو تیز تیز کام کرتے ہیں۔ تم بہت سست ہو۔ 

یہ باتیں کرنے والے لوگ بھی کوئی جاہل اور انپڑھ نہیں ہوتے۔ بلکہ ڈگری یافتہ اور نام نہاد سمجھدار، عقلمند اور تجربہ کار کہلاتے ہیں۔ اپنی دانست میں۔ 

نابینا افراد کے ساتھ عملی میدان میں کیے جانے والے جس سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ عمومی ہے۔ اگرچہ کچھ افراد مثبت، تعمیری سوچ بھی رکھتے ہیں۔ اپنے عمل اور رویے کے ذریعے اس کی عملی تصویر پیش کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ 

مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ افراد بھی طنز کے تیروں۔ لوگوں کے منافقانہ رویے اور کڑوے کسیلے لہجے سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ انہیں ایڈوانس درجے کے ہمدرد جیسے القاب سے بھی نوازا جاتا ہے۔ یہ درس بھی دیا جاتا ہے کہ زیادہ ہمدرد بن کر اپنی زندگی مشکل مت بناؤ۔ 

اگرچہ اس منفی اور حوصلہ شکن رویے اور ماحول کے باوجود اچھے اور مثبت رویے والے افراد موجود ہیں۔ جو ہر قدم پر تعاون کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی ماحول سے گزرتے ہوۓ تعلیم یافتہ نابینا افراد اپنی کامیابی کی داستانیں رقم کرنے میں مصروف ہیں۔ 

مگر یہ لازم ہے۔ کہ اس سلسلے میں شعور بیدار کیا جاۓ۔ تاکہ اس منفی سوچ اور عمل کا خاتمہ ہو سکے۔ 

ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ عوام الناس میں معذوری کے حوالے سے آگاہی اورشعور پھیلانے سے قبل ان نام نہاد ڈگری یافتہ اور اپنی دانست میں پڑھے لکھے افراد کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاۓ۔ جہاں انہیں یہ باور کروایا جاۓ۔ کہ نابینا پن ایک چیلنج ضرور ہے۔ اگرچہ ان افراد کا طرز زندگی ہم عام افراد سے مختلف ہے۔ مگر یہ بے کار اور بے ہنر افراد نہیں ہیں۔ 

ان کے اندر صلاحیتوں کا ایک جہاں آباد ہے۔ ان عام افراد کو چاہیے کہ نابینا افراد کے ساتھ تعاون کریں۔ 

جہاں تک ممکن ہو۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر ایسا کرنا دشوار ہو۔ تو کم از کم باصلاحیت افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے جواب میں منفی تبصرے سے گریز کریں۔ 

حکومت کو چاہیے کہ سرکاری آسامیوں کی تقرری کے سلسلے میں نابینا افراد کے لیے الگ کوٹہ مقرر کرے۔ جہاں صرف نابینا افراد کو مقرر کیا جاۓ۔ علاوہ ازیں معذور افراد کے لیے صرف دو فیصد کوٹہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں اضافہ کیا جاۓ۔ 

مزید یہ کہ جسمانی معذور فرد کو نابینا فرد پر فوقیت دینا، پھر نابینا افراد میں ان افراد کو ترجیح دینا جو زیادہ سے زیادہ دیکھ سکتے ہیں۔ 

فوقیت کے اس معیار کو ترک کر کے علم، عمل اور اہلیت کو بنیاد بنایا جاۓ۔ 

ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اشتہارات کے ذریعے نابینا افراد کی تعلیم کی اہمیت اور پیشہ ورانہ زندگی میں ان کی شمولیت کے بارے میں آگہی اور شعور پھیلایا جاۓ۔ 

دوسری طرف خود نابینا افراد کو چاہیے کہوہ پر اعتماد رہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار لاتے ہوۓ جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھیں۔ لوگوں کے منفی رویوں اور تبصروں کا جواب زبان سے دینے کے بجاۓ عمل سے دیں۔ حوصلہ شکن ہونے کے بجاۓ ایسے لوگوں کی گھٹیا باتوں سے دل دکھانے کے بجاۓ مزید حوصلہ مند اور جرات مند بنیں۔ اپنے عمل سے اپنی شناخت پیدا کریں۔

یاد رکھیں۔ کہ دنیا میں ہر شخص منفرد صلاحیتوں کا مالک ہے۔ درزی کپڑے سینے میں ماہر ہے۔ تو مستری عمارات کی تعمیر میں۔ اسی طرح ڈاکٹر کی اپنی صلاحیتیں اور مہارتیں ہیں۔ جبکہ انجینیئر کے اپنے فرائض اور ذمے داریاں۔ اب ان مہارتوں اور صلاحیتوں کی بنا پر ان افراد کو ایک دوسرے سے کمتر اور نا اہل قرار دینا تو کہنے والے کی بے وقوفی ہے۔ نہ کہ ان افراد کی کمتری اور کمزوری۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *