Asfiya Nourine

معلومات کا سیلاب اور علم کی پیاس

معلومات کا سیلاب اور علم کی پیاس

آج کا انسان ترقی کی معراج کو پہنچ چکا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں روز بروز ہونے والی نت نئی ایجادات جہاں انسانی زندگی کو سہل سے سہل بناتی جا رہی ہیں۔ وہیں ٹیکنالوجی کی جدید ترین ایجادات اور آلات کی بدولت معلومات تک رسائی بھی بہت آسان ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ آج انسان کی ایک انگلی کے کنٹرول میں ہے۔ انسان کی انگلی کی ذرا سی جنبش سے اس کے سامنے سکرین پر معلومات کا سمندر امڈ  آتا ہے۔

آج کا انسان انٹرنیٹ اور دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے ہر لمحہ معلومات تو بے حساب حاصل کر رہا ہے۔ مگر اس کے پاس علم کی کمی ہے۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ لامحدود معلومات کی موجودگی کے باوجود علم کا فقدان ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا معلومات اور علم میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا؟ یہ سوالات غور طلب ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں ذیل میں بیان کرتے ہیں۔

معلومات سے مراد وہ خبریں، حقائق، اعداد و شمار، تجربات اور واقعات ہیں جو مختلف ذرائع جیسے کتابوں، اخبارات ٹیلی ویژن، ریڈیو، انٹرنیٹ اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کے توسط سے تحریری، تقریری یا ویڈیو کی صورت میں حاصل ہوتی ہیں۔ معلومات حاصل کرنے والا شخص اس ذخیرے کو بغیر سوچے سمجھے اور تگ و دو کیے مختلف ذرائع سے حاصل تو کر لیتا ہے۔ بعض اوقات ان معلومات کو ذہن میں محفوظ بھی کر لیتا ہے۔ لیکن اس ذخیرے سے نہ اسے زندگی میں کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ اور نہ ہی وہ خود اس ذخیرے سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچتا ہے۔

علم سے مراد ذہن میں موجود معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جسے انسان زندگی میں موقع و محل کے مطابق ضرورت کے تحت استعمال کرتے ہوئے اپنے مسائل کو حل کر سکے۔ اپنی زندگی کو پرسکون اور پر لطف بنا سکے۔

مثال کے طور پر زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ خبر معلومات کے زمرے میں آتی ہے۔ جبکہ اگر انسان اس خبر کی بنیاد پر یہ تلاش کرے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا نتیجہ کیا ہے۔ ان سوالات کو بنیاد بنا کر اسے جو حقائق حاصل ہوں گے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو نتیجتاً دن اور رات کا آنا جانا ہوتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ یہ خبر معلومات کا درجہ رکھتی ہے۔ جبکہ اس خبر کی بنیاد پر یہ جاننا کہ تمباکو میں ایسے کون سے اجزا موجود ہوتے ہیں جو مضر صحت ہیں۔ یہ انسانی جسم پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان اثرات سے بچاؤ کے لیے کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات علم کہلائیں گے۔ اسی طرح پاکستان 14 اگست 1947 کو قائم ہوا۔ یہ خبر معلومات ہے۔ جبکہ اس خبر کے سیاسی، سماجی، تاریخی پس منظر کا کھوج لگانا، قیام پاکستان کے بعد درپیش چیلنجز اور اثرات کو جاننا علم کہلاتا ہے۔

یعنی کسی بھی واقعے، تجربے یا مشاہدے کے بارے میں پڑھنا، سننا معلومات کہلاتا ہے۔ جبکہ ان خبروں اور حقائق کا گہرائی سے تجزیہ کرنا، یہ کھوج لگانا یہ حقائق کب، کہاں کیسے اور کیوں ہوئے علم کہلاتا ہے۔ گویا زندگی میں حاصل ہونے والی مختلف معلومات کو اپنی تنقیدی سوچ اور تحقیقی تجسس کی بنیاد پر پرکھ کر مختلف نتائج اخذ کرنا۔ پھر ان نتائج کو بوقت ضرورت درست انداز سے اپنی زندگی میں بروئے کار لانا علم کہلاتا ہے۔

دور حاضر میں انسان خصوصاً نوجوان نسل معلومات کے سمندر میں غوطے تو لگا رہی ہے۔ مگر اس کے پاس علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ معلومات کے اس سیلاب نے نوجوان نسل میں غور و فکر، تدبر، تنقیدی سوچ اور تحقیق کے تجسس کو ناپید کر دیا ہے۔ جس کا نقصان یہ ہے کہ آج کا انسان اپنے سامنے آنے والی ہر خبر کو درست سمجھنے لگتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ یہ جانچ پرکھ کر لے کہ آیا یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔ یہ خبر اگر سچ ہے تو کتنی اور جھوٹ ہے تو کتنی۔ ان سوالات پر غور و فکر کرنا تو بہت شاذ و نادر ہے۔ بس انسان صرف حاصل ہونے والی معلومات پر اکتفا کرتا ہے اور انگلی کی ایک جنبش کے ذریعے ان معلومات کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیتا ہے۔

دور حاضر میں معلومات کی اس بہتات میں صحیح غلط، کھرے کھوٹے کو الگ کرنا بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔

انسان کو سمجھنا چاہیے کہ معلومات کا ذخیرہ مختلف کتابوں کے مطالعے، پرنٹ میڈیا، برقی میڈیا، انٹرنیٹ اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کی وساطت سے تو حاصل ہو سکتا ہے۔ مگر ان معلومات کی کانٹ چھانٹ کر کے ان میں سے درست معلومات کو الگ کر کے زندگی میں ان سے مثبت اور تعمیری فوائد حاصل کرنا ہی اصل کام ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی نوجوان نسل میں غور و خوض، تفکر و تدبر، تنقیدی سوچ اور تحقیق کے تجسس کو بحال کرنے کے لیے انہیں تربیت فراہم کی جائے۔ انھیں یہ بتایا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں تحقیق، جانچ پرکھ، تفکر و تدبر کرنے کی عادت اپنائیں۔ جب بچے مختلف حوالوں سے کب، کہاں، کیوں اور کیسے جیسے سوالات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انھیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کی جائے۔ تاکہ معلومات کی بہتات اور علم کے فقدان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصان دہ اور بھیانک نتائج اور اثرات کی روک تھام کی جا سکے۔ ان اثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی، خلقی اور فکری زوال کو کم کیا جا سکے۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *