Asfiya Nourine

معاشرتی رسم و رواج اور قرض

معاشرتی رسم و رواج اور قرض

معاشرے میں رہنے والے افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف مواقع پر کچھ مخصوص افعال و اعمال کا ارتکاب کرتے اور مخصوص رد عمل اور رویے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ان مخصوص افعال و اعمال کو رسم و رواج کا نام دیا جاتا ہے۔ 

رسم و رواج ہمارے معاشرے میں عوام و خواص کے مابین استعمال ہونے والے دو عام الفاظ ہیں۔ 

کیا یہ دونوں الفاظ یکساں مفہوم رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اگر نہیں تو ان میں کیا فرق ہے؟ یہ غور طلب سوالات ہیں۔ آئیے ذیل میں ان سوالات کے باری باری جوابات کا جائزہ لیتے ہیں۔ 

رسم کیا ہے؟ اس سے مراد وہ مخصوص عمل یا فعل ہے جو کسی گروہ، قوم یا معاشرے میں کسی خاص موقعے پر انجام دیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر رسموں کا تعلق زیادہ تر خوشی اور غمی کے مواقع سے ہوتا ہے۔ یہ رسمیں مختلف خاندانوں اور معاشروں میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ 

مثال کے طور پر کچھ خاندانوں میں شادی کے موقع پر یہ رسم ہوتی ہے کہ رخصتی کے وقت دلہن کو قرآن مجید کے سایے میں گزارا جاتا ہے۔ اور سسرال پہنچ کر دلہن کے سامنے قرآن مجید کھول کر رکھا جاتا ہے۔ پھر وہ اس کی تلاوت کر کے اس میں کچھ رقم رکھتی ہے۔ 

اسی طرح بارات کی آمد پر دلہن کی بہنوں کا جوتا چھپائی یا دودھ پلائی وغیرہ کرنا اور پھر دولہا سے منہ مانگی رقم طلب کرنا۔ 

اسی طرح غمی کی رسموں کی بات کی جاۓ تو کسی شخص کی وفات کے بعد اس کی ورثا یعنی بیوی بچوں میں لباس تقسیم کرنا، تیجے، چالیسویں وغیرہ کا اہتمام کرنا اور ان تقریبات میں کھانے کا اہتمام اور لوگوں کو دعوت دینے کا اہتمام اس طرح کرنا جیسے ولیمے کی تقریب ہو۔ 

رسم کے ساتھ استعمال ہونے والا دوسرا لفظ رواج ہے۔ رواج کیا ہے؟ اس سے مراد معاشرے میں رائج عمومی افعال و اعمال اور رویے ہیں جو اجتماعی طور پر مختلف مواقع پر معاشرے کے مختلف خاندان اور گروہ بلا تفریق انجام دیتے ہیں۔ 

مثلاً: خوشی کے موقع جیسے شادی بیاہ، سالگرہ یا بچے کی پیدائش وغیرہ کے مواقع پر تحائف اور لفافوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غمی کے موقع پر یعنی کسی کی بیماری پر عیادت کرنا، انتقال پر جنازے میں شرکت کرنا، میت کے گھر پر تین دن تک کھانا پہنچانا، کسی کا نقصان ہو جاۓ تو اس سے ہمدردی کرنا، صاحب استطاعت ہونے پر اس کی مدد بھی کرنا۔ یہ تمام اعمال رواج میں شمار کیے جاتے ہیں جو معاشرے میں عمومی طور پر رائج ہیں۔ 

ان مروجہ رسم و رواج کا مقصد خاندانی اور معاشرتی نظام کو مربوط و منظم کرنا ہے۔ تاکہ لوگ خوشی اور غمی کے موقع پر ایک دوسرے سے ملیں۔ ان کے درمیان رابطہ بڑھے۔ 

دور حاضر میں رسم و رواج کے نام پر ایجاد ہونے والے نت نۓ اعمال نچلے طبقے کے لیے ذہنی اور معاشی دباؤ اور اذیت کا باعث بنتے چلے جا رہے ہیں۔ 

مالی اعتبار سے خوشحال طبقے کے تہوار روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ جو ان کی رونق اور مسرت میں اضافے کا باعث ہے۔ 

مگر نچلا طبقہ جس کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔ یہ رسم و رواج ان کے لیے کسی مصیبت سے کم نہیں۔ 

المناک صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خوشی اور غمی کے موقعے پر اپنی استطاعت کے مطابق انتظامات کرتا ہے۔ تاکہ وہ معاشی بوجھ سے بچ جاۓ اور مدعو افراد کی خاطر تواضع بھی مناسب انداز سے ہو جاۓ۔ وہ اپنی مالی حیثیت اور علم کی روشنی میں بالکل درست کر رہا ہوتا ہے۔ 

مگر معاشرے کا ایک طبقہ جو دوسروں کے بارے میں اپنے خود ساختہ نظریات کی روشنی میں راۓ دینا ضروری سمجھتا ہے۔ وہ ان کی تقریب میں خواہ جتنی بھی اچھی باتیں ہوں۔ انھیں نظر انداز کر کے یہ ضرور کہتا ہے کہ آج کل کے رواج کے مطابق ان کے ہاں فلاں چیز کی کمی تھی۔ 

اس طبقے کے غیر ضروری تنقیدی کلمات نچلے طبقے کے لیے ذہنی اور اقتصادی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔ 

اس طبقے کے منفی رویے سے بچنے اور ان کے منہ سے تحسین اور تعریفی کلمات سننے کی خاطر بعض لوگ تو ان رسم و رواج کو اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی انجام دہی کی خاطر قرض لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ 

اکثر لوگ اس جملے کو کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” مد نظر رکھتے ہوۓ چند گھنٹوں یا دنوں پر مشتمل تقریب کو خوشگوار بنانے اور لوگوں کی طعن و تشنی سے بچنے کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ قرض کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وقتی طور پر چمک دمک سے سب کچھ کر لیتے ہیں۔ بعد ازاں قرض کے بوجھ تلے دب کر ذہنی، نفسیاتی الجھنوں اور دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس انتشار کی زد میں اپنی ذاتی زندگی اور صحت کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہ صورت حال ان کی روزمرہ زندگی پر اس قدر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ کہ ان سے چھٹکارا پانے کے لیے عرصہ دراز گزر جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے آپ کو معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرور کوشش کرے۔ مگر اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن اور اعتدال قائم رکھے۔ وہ اپنی ترجیحات کا تعین اپنی استطاعت کو مد نظر رکھتے ہوۓ خود کرے۔ اس بات کو سمجھے کہ ہر رسم اور رواج کی پیروی اور تکمیل لازم اور ضروری نہیں۔ وہ اپنی آمدنی کی حدود میں رہتے ہوۓ تمام تقریبات کا انعقاد ضرور کریں۔ خوشی بھی منائیں۔ مگر سادگی کو ملحوظ رکھیں۔ اسراف اور فضول خرچی سے بچیں۔ 

علاوہ ازیں، لوگوں کو چاہیے کہ اگر وہ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو اپنی استطاعت کے مطابق مباح رسوم و رواج کا انعقاد نہیں کر رہا۔ تو اسے تنقید اور طعن و تشنی کا نشانہ نہ بنائیں۔ 

مزید یہ کہ لوگ سادگی، اسراف اور فضول خرچی کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ اور اسی علم کی روشنی میں اپنے معاشی اور معاشرتی معاملات انجام دیں۔ تاکہ معاشرے میں خوش گوار اور پر سکون ماحول کی تشکیل ہو سکے۔ 

خلاصہ یہ کہ رسم و رواج کی پیروی اور انجام دہی تقریبات میں خوشی اور رونق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن صرف اس وقت جب ان کی انجام دہی میں سادگی اور اعتدال کو ملحوظ رکھا جاۓ۔ 

ہر شخص کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں رائج ہر چیز کو ضروری نہ سمجھیں۔ نہ ہی اس سے انحراف کو بغاوت سمجھے۔ کیوں کہ یہ اکثر و بیشتر رسم و رواج لوگوں کے خود ساختہ ایجاد کردہ ہیں۔ جن کی کوئی دینی دلیل نہیں۔ بعض تو ایسے رسم و رواج ہیں۔ جن کی عقلی اور منطقی دلیل بھی سمجھ نہیں آتی۔ 

لہٰذا انسان کو چاہیے کہ خود علم سیکھے۔ جو چیز مذہبی، سماجی اور عقلی لحاظ سے درست ہو۔ اسی کی پیروی کرے۔ علاوہ ازیں جو چیز معاشی بوجھ کا سبب ہو اسے ترک کر دے۔ اور اس بات کی پرواہ بالکل نہ کرے کہ “لوگ کیا کہیں گے” کیوں کہ یہ وہ جملہ ہے جس نے لوگوں کی زندگیاں نہایت تنگ اور اذیت ناک بنا رکھی ہیں۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *