دور حاضر کے ڈیجیٹل عہد میں روز بروز ٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ ان ایجادات نے ابتدا میں جہاں انسان کو جسمانی سطح پر آسودگی اور آسانی فراہم کی۔ اب رفتہ رفتہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایسے سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز ایجاد ہو رہی ہیں۔ جو انسان کو اس کے سوال کے جواب میں تمام متعلقہ معلومات فراہم کر دیتی ہیں۔ یہ معلومات صرف تحریری سطح تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ آڈیوز اور ویڈیوز بنانے کے لیے بھی ایسے ٹولز آ چکے ہیں۔ جنہیں انسان تحریری طور پر سکرپٹ دیتا ہے۔ اور متعلقہ ٹول مطلوبہ ویڈیو اور آڈیو تشکیل کر کے دے دیتا ہے۔
اس تمام صورت حال نے انسان کو ایک طرف ذہنی آسودگی و آسانی بخشی ہے۔ وہاں اسے کاہلی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی کی اس فضا میں یہ بات بھی عوام و خواص میں گردش کر رہی ہے۔ کہ آئندہ کچھ عرصے میں یہ سافٹ ویئرز اس قدر ترقی یافتہ ہو جائیں گے۔ کہ انسان کو ذہن استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اس بات میں کتنی حقیقت ہے۔ آئیے اس بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔
آج کی نو جوان نسل مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز کے استعمال سے انواع و اقسام کی آڈیوز، ویڈیوز اور تحریری مواد تخلیق کر رہی ہے۔ یہ تمام سافٹ ویئرز اگرچہ مواد کو خود تخلیق کرتے ہیں۔ مگر کس قسم کا مواد جنریٹ کرنا ہے؟ اس کا موضوع، پس منظر اور اثر و نتیجہ کیا ہو گا؟ یہ تمام وہ سافٹ ویئرز ہیں جن پر انسان خود اپنا دماغ اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ سافٹ ویئر کو پرومپٹ دیتا ہے۔ تمام پرومپٹ کا جائزہ لینے کے بعد وہ سافٹ ویئر اس پرومپٹ کی روشنی میں مواد تخلیق کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز کی جانب سے جنریٹ کیا گیا ہر مواد مستند، معیاری، صحت مند اور مربوط ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیشہ یہ مواد ہر لحاظ سے کامل نہیں ہوتا۔ ہر دفعہ اس میں کچھ کمی پیشی موجود ہوتی ہے۔ بعض اوقات سوال کرنے والا کسی اور پس منظر میں سوال کرتا ہے۔ جبکہ مطلوبہ سافٹ ویئر کسی دوسرے تناظر میں جواب دیتا ہے۔ وہ جواب درست تو ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے مطلوبہ پس منظر کی روشنی میں غلط ہوتا ہے۔ مطلوبہ شخص پہلے مواد کی خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ پھر ان کے خاتمے کے لیے اپنی تحقیق اور مطالعے کی روشنی میں اقدامات کرتا ہے۔
مزید یہ کہ ان سافٹ ویئرز کا درست استعمال صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو ٹیکنالوجی کے سافٹ ویئرز کی باریکیوں کا شعور رکھتے ہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی معلومات میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مختصر یہ کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز اور ایجادات نے اگرچہ معلومات تک رسائی کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ ایک سوال لکھنے سے مطلوبہ شخص کی سکرین پر معلومات کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ لیکن یہ بات ہرگز درست نہیں کہ یہ سافٹ ویئرز انسانی ذہن کی جگہ لے لیں گے۔ بلکہ یہ ضرور ہے کہ وہ لوگ جو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے سافٹ ویئرز کے استعمال میں ماہر ہیں۔ وہ ضرور ان لوگوں کی جگہ لے لیں گے۔ جنہیں ان سافٹ ویئرز کے استعمال سے واقفیت نہیں۔
خلاصہ یہ کہ نوجوان نسل کو چاہیے کہ محض ڈگری کے حصول پر توجہ نہ دیں۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی آئی ٹی سکلز کو بہتر بنائیں۔ اپنے اندر تحقیق، جستجو اور تنقید جیسی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے مواد کی چھان بین کر کے اس کی صحت کا جائزہ لیں۔ تاکہ آنے والے وقت میں وہ اپنے لیے بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔ اپنی ذات، ملک، معاشرے اور قوم کے لیے ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کر سکیں۔
مزید یہ کہ انسان اس حقیقت کو سمجھے کہ نت نئے ایجاد ہونے والے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز انسان کے لیے خطرہ اور انحطاط کا سبب نہیں۔ بلکہ اس کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیت اور غور و فکر کرنے کے مادے میں مزید اضافہ کرنے، چستی اور تیزی پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ ان سافٹ ویئرز کے مثبت اور تعمیری پہلوؤں سے عملی زندگی میں کتنی کامیابی اور تعمیر و ترقی کرتے ہوئے اس کے برے اور نقصان دہ پہلوؤں کا خاتمہ کرتا ہے۔
یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ زمانے میں وہی لوگ کامیابی و کامرانی کی منزل سے ہمکنار ہوں گے۔ جو عصر جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر آئی ٹی سکلز سے بہرہ ور ہوں گے۔











