وقت کیا ہے۔ ایک غیر محسوس شے جسے نہ چھوا جا سکتا ہے۔ نہ دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر پھر بھی یہ ہماری زندگی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ جس میں ہماری حیات قید ہے۔
ہر انسان اس وقت کو لفظی صورت میں ظاہر کرنے کے لیے ماضی، حال اور مستقبل کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ کہ وہ ہر لمحہ کبھی ماضی کے خوشگوار لمحات، کبھی تلخ تجربات کو یاد کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح وہ مستقبل کے لیے ایسے فیصلوں اور منصوبوں کو تشکیل دینے اور عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ تاکہ مستقبل محفوظ اور خوشگوار ہو۔ بظاہر تو فرد لمحہ موجود میں وقت کے تقاضے کے مطابق حرکت و عمل انجام دینے میں مصروف ہوتا ہے۔ مگر وہ ذہنی سطح پر ماضی کی یادوں اور مستقبل کی فکر میں کھویا رہتا ہے۔
اگرچہ ماضی کو یاد کرنا اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا درست حکمت عملی ہے۔ لیکن توجہ طلب سوال یہ ہے کہ کیا اس ساری فیصلہ سازی اور سوچ بچار میں لمحہ حال کو نظر انداز کرنا عقلمندی ہے؟ آئیے اس بات پر غور و فکر کرتے ہیں۔
ماضی انسان کی زندگی کا گزرا ہوا وہ وقت ہے۔ جو خوشگوار اور تلخ ملے جلے تجربات اور مشاہدات کا مجموعہ ہے۔ یہ انسانی ذہن میں موجود اس کی زندگی کا وہ عکس ہے۔ جس کے بارے میں وہ صرف ذہن میں سوچ سکتا ہے۔ زبان سے تذکرہ کر سکتا ہے۔ مگر چاہ کر بھی ان لمحات کو واپس نہیں لوٹا سکتا۔ نہ اس خوشی کو، نہ تجربے اور مشاہدے کو۔ صرف یہی نہیں۔ بلکہ اپنے ساتھ رابطے میں رہنے والے ان لوگوں کو بھی اپنی زندگی میں نہیں لوٹا سکتا۔ جن سے وہ کبھی روز ملتا تھا۔ اپنے جذبات، خیالات، تجربات اور فکر کا ان کے سامنے اظہار کرتا تھا۔ اسی طرح ان کے جذبات، احساسات خیالات اور فکر سے آگاہ ہوتا تھا۔
انسان کی یاداشت کا یہ سلسلہ یہاں ہی ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس مقام کو بھی یاد کرتا ہے۔ جہاں اس نے ماضی کے لمحات اپنے ملاقاتیوں اور دیگر رابطہ رکھنے والوں کے ساتھ گزارا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ لمحہ حال میں اس مقام پر جا کر بھی اکثر و بیشتر یادِ ماضی میں کھویا ہوا رہتا ہے۔ گویا ماضی لوگوں کے تعلقات، مقامات، خوشیوں اور غموں کا ذہن میں محفوظ ریکارڈ ہے۔
ماضی کی یادیں انسان کے ذہن میں لمحہ حال میں تقریباً ہر وقت بہتی رہتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ انسان اپنے مستقبل کے لیے غور و خوض، فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد صرف اور صرف کامیاب اور خوشگوار مستقبل کا حصول ہوتا ہے۔
انسان کی یہ ساری فکر و پریشانی تو اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ مگر اس ساری سوچ بچار میں لمحہ حال کہاں گیا؟ کیوں کہ یہی لمحہ حال گزرنے کے بعد ماضی میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح موجودہ لمحہ جسے ماضی میں جب وہ مستقبل تھا خوشگوار بنانے کے لیے ہم حرکت و عمل میں مصروف تھے۔ تو یہی موجودہ لمحہ ہمارا مستقبل تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ انسان اس حقیقت کو سمجھے۔ کہ ماضی صرف گزرے ہوئے لمحات کی یادوں، تجربات، مشاہدات اور تعلقات کا عکس ہے۔ جبکہ مستقبل خوابوں، امیدوں اور خدشات سے عبارت ہے۔ ماضی جو گزر گیا، اسے ہم چاہ کر اپنی پوری طاقت اور ہمت لگا کر بھی اپنی زندگی میں نہیں لوٹا سکتے۔ اسی طرح مستقبل غیر یقینی ہے۔
اس ساری بات کو ذہن نشین کرنے کے بعد فقط یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ کہ انسانی زندگی میں جس لمحے کی اہمیت ہے۔ وہ صرف موجودہ لمحہ ہے۔ جس میں وہ جی رہا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کو چاہیے کہ وہ لمحہ حال میں خوب محنت، لگن اور جدوجہد سے اپنے مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کام کرے۔ ماضی کو بھی یاد کرے۔ کامیابیوں سے مزید حوصلہ، اعتماد اور ہمت حاصل کرے۔ گزشتہ زمانے میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھے۔ دوبارہ حال میں ان غلطیوں کو نہ دہرائے۔ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کرے۔ مگر اس تلخ حقیقت کو یاد رکھے۔ ضروری نہیں ہمیں لمحہ حال میں کی گئی محنت، جدوجہد کا مستقبل میں ویسا ہی پھل ملے جیسا ذہن میں سوچ لیا گیا ہے۔ ہرگز یہ ضروری نہیں۔ ہو گا وہی جو اللّٰہ تعالٰی نے روز ازل سے مقدر فرما رکھا ہے۔
لہٰذا عقلمندی یہی ہے کہ انسان لمحہ حال کی قدر کرے۔ اور یہ قدر یوں ہی ممکن ہے۔ کہ وہ دنیا میں اپنے آنے کے مقصد کو سمجھے۔ دنیاوی اور اخروی زندگی میں حقیقی کامیابی کے لیے علم اور عمل کو ہتھیار بنائے۔ انفرادی سطح پر اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔











