اونچی اونچی عمارتیں، عالی شان محلات، قیمتی دھاتوں کو تراش خراش کے تیار کیے جانے والے حسین و جمیل زیورات، لکڑی کی کانٹ چھانٹ کر کے مختلف قسم کے نقش و نگار اور نت نئے ڈیزائن پر مبنی تیار شدہ فرنیچر یہ سب چیزیں دیکھنے میں کتنی خوبصورت لگتی ہیں۔ لوگ انہیں کسی بھی قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
صرف یہی نہیں، گزرگاہوں اور مقامات تفریح پر لوگوں کی سہولیات اور فرحت و خوشی کے لیے مختلف نقش و نگار کی موجودگی بھی آنکھوں کو کتنا خیرہ اور ذہن کو کس قدر حیرت میں مبتلا کرتی ہے۔ دیکھنے والے ان چیزوں سے کتنا لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مگر کسی نے سوچا ہے۔ کہ حسن و خوبصورتی جلال و جمال کی اس حالت تک پہنچنے کے لیے یہ چیزیں کن مراحل سے گزرتی ہیں۔ فقط چیزیں ہی نہیں بلکہ ان کو بنانے والے بھی کس قدر محنت، جہد مسلسل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جس پر بہت کم لوگ ہی غور و خوض کرتے ہیں۔
انسانوں کا یہ رویہ صرف بے جان اشیا تک محدود نہیں بلکہ محنت، جہد مسلسل کرنے والے، اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کس قدر مشکلات، مصائب اور غیر یقینی حالات کا سامنا کرتے ہیں، نفسیاتی اور ذہنی طور پر کس کرب سے گزرتے ہیں کوئی نہیں سوچتا۔
کچھ کٹھن حالات تو مطلوبہ راستے کی ضرورت ہوتے ہیں۔ مگر بہت سے حالات تو لوگ خود اپنے الفاظ، رویوں اور لہجے سے اس شخص کو اپنی منزل سے دور کرنے کی ان چاہی کوشش کی وجہ سے پیدا کرتے ہیں۔
کٹھن حالات میں کڑوے الفاظ بولنے اور ناگوار رویہ کا اظہار کرنے والے کامیابی دیکھ کر بول اٹھتے ہیں۔ اس کی زندگی میں کتنا سکون و اطمینان ہے۔ یہ شخص کس قدر صابر اور مستقل مزاج ہے۔ وہ لمحہ حال کی آسودگی کو دیکھ کر ان جملوں سے دراصل اپنی محرومی کا احساس اور دل میں چھپے حیرت اور خوشی جیسے ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر ان کے یہ جملے کامیاب افراد کے عرصہ دراز کے مشکل اوقات کے کٹھن حالات کو چند لمحوں میں خاک میں دفن کر دیتے ہیں۔ جن کے عوض وہ آج دوسروں کی نظر میں مطمئن اور پُر سکون دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے۔ کہ زندگی غیر یقینی حالات، نشیب و فراز، تاریکیوں اور اجالے سے عبارت ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے حالات اور اوقات کے قفس میں قید ہے۔ اور اسی قفس کے مطابق خوشیوں، غموں، پریشانیوں اور تکلیف و آسودگی کا شکار ہے۔ مشکلات، کٹھنائیاں اور درد و کرب سب کی زندگی میں ہے۔ مگر یہ سب کچھ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ محسوس کرنے کی صلاحیت، اور برداشت کرنے کی ہمت میں فرق ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر اپنی منزل کی طرف گامزن رہے۔ راستے میں کانٹے بھی آئیں گے اور پھول بھی۔ انہیں پار کر کے ہی اسے اپنی منزل تک پہنچنا ہے۔ نہ کانٹوں سے خوفزدہ ہونا ہے نہ ہی پھولوں کی رنگینی و رعنائی میں کھونا ہے۔
ہر شخص کو چاہیے کہ ارد گرد کے منفی رویوں اور تلخ لہجوں سے نفسیاتی کمزوری اور تھکن کا شکار نہ ہو۔ کیوں کہ عالی شان محلات اور ہر دور میں موجود بنی بنائی تیار چیزیں ہی لوگوں کی نگاہ کا مرکز اور گفتگو کا محور ہوتی ہیں۔ مگر جب یہی چیزیں تیاری سے پہلے خام مال کی صورت میں ہوں۔ اور استعمال کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں۔ تو ان سے لوگوں کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح لوگ کامیاب شخص کے زمانہ عروج کے دوران ہی اس کے گرد ہجوم بناتے ہیں۔ نہ کہ اس وقت جب وہ ان لمحات کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہو یا منفی رویوں سے مایوس ہو کر تھک ہار کر بیٹھ جائے۔
دوسری طرف لوگوں کو چاہیے۔ کہ مثبت اور تعمیری رویہ اور لہجہ اختیار کریں۔ اول تو بغیر طلب کیے لوگوں کو مشورے نہ دیں۔ اگر دینا ضروری ہو تو لوگوں کی زندگی میں تاریکی کی بجائے روشنی کا دیا جلائیں۔
خلاصہ یہ کہ محنت اور جہد مسلسل کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اپنے حصے کا کام کریں۔ نتیجہ اللّٰہ پر چھوڑ دیں۔ وہ بہترین صلہ عطا کرے گا۔ کیوں کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ہماری محنت بھی اور دوسروں کا رویہ اور تبصرہ بھی۔
سچ یہی ہے کہ زندگی نام ہی مسلسل جدوجہد اور محنت کا ہے۔ زندگی میں موجود چہل پہل اور حرکت و عمل ہی اس کی خوبصورتی ہے۔ تھکن، رکاوٹ اور انجماد تو حقیقی انحطاط ہے۔ حقیقی مزہ اور سکون تو منزل کو پانے کی خاطر کیے جانے والے سفر میں ہے۔ منزل پا کر نہ وہ خوشی باقی رہتی ہے نہ ہی جستجو۔











