غربت ایک ایسی اصطلاح ہے جو موجودہ دور میں ہمارے معاشرے میں زبان زد عام و خاص ہے۔ ہر شخص اس لفظ کا استعمال ایک مسئلے کے طور پر کرتا ہے اور اسے ہی دیگر تمام مسائل کی جڑ سمجھتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں غربت کی جو تعریف پیش کی جاتی ہے یا جس مالی صورت حال کو غربت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کیا یہی غربت کی تعریف ہے؟ اسی طرح جس معاشی صورت حال کو غربت کا معیار تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیا یہ حقیقتاً غربت کا معیار ہے؟ یہ تمام مذکورہ سوالات وہ ہیں جو ہر سنجیدہ سوچ رکھنے والے اور گہرا مشاہدہ کرنے والے شخص کے ذہن میں ضرور ابھرتے ہیں۔ آئیے ایک ایک کر کے ان سوالات پر بحث کرتے ہیں۔
دور حاضر میں ہر شخص مختلف خواہشات اور آرزوؤں میں گرفتار ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میری ہر آرزو ضرور پوری ہو چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ان خواہشات کی خاردار جھاڑیوں میں وہ اپنی ترجیحات متعین کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ اس صورت حال میں ہر شخص کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات چار قسم کی ہیں۔ ضرورت، حاجت، منفعت اور زینت۔
ضرورت سے مراد انسان کی وہ تمام ضروریات ہیں جن کے بغیر اس کا اس دنیا میں زندگی بسر کرنا ناممکن ہے۔ ایسی ضروریات میں خوراک، لباس اور رہائش وغیرہ شامل ہیں۔ ہر سرپرست کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جائز ذرائع اختیار کرتے ہوۓ اتنی مقدار میں ضرور مال کماۓ جس سے وہ خود اور اس کے اہل خانہ پرسکون زندگی بسر کر سکیں۔
دوسرا درجہ حاجت کا ہے جس میں انسان کی وہ ضروریات شامل ہیں جن کے بغیر انسان کی زندگی تو بسر ہو سکتی ہے لیکن نہایت مشکل اور دشواری سے۔ حاجت میں تعلیم، صحت اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق زندگی کو آسان بنانے والی مشینیں اور آلات وغیرہ شامل ہیں۔ جن کے ذریعے انسان کی زندگی اپنے عہد کے معیار کے مطابق پرسکون اور پرآسائش ہو سکتی ہے۔
تیسرا درجہ منفعت کا ہے جس میں وہ چیزیں آتی ہیں اگر ان کو جائز ذرائع سے حاصل کیا جاۓ تو انسان اپنے حال کے ساتھ ساتھ مستقبل کو بھی پر سکون بنا سکتا ہے۔ جیسے اگر کسی شخص کے پاس ایک دکان ہے یا وہ ایک نوکری کر رہا ہے لیکن اپنی موجودہ دکان پر مطلوبہ محنت کرنے کے بعد یا نوکری پر مطلوبہ وقت دینے کے بعد بقیہ فارغ وقت کو کسی دوسرے کاروبار میں اس طرح صرف کرے کہ وہ اپنے فرائض میں بھی کوئی کوتاہی نہ کرے منفعت کہلاتا ہے۔
چوتھا درجہ زینت کا ہے جس میں آرائش و زیبائش وغیرہ شامل ہے۔ یعنی ایک شخص کے پاس گھر تو ہے لیکن وہ اس کی آرائش ، پینٹنگ وغیرہ کرنا چاہتا ہے تاکہ دیکھنے میں گھر اچھا لگے جبکہ گھر کا بنیادی کام موسم کی شدت سے بچانا ہے۔
مگر کسی شخص کا ایسی خواہش کرنا اس صورت میں کچھ برا نہیں جب اس کی بنیادی ضروریات زندگی پوری ہو رہی ہوں اور اس کے پاس اتنی رقم اضافی بھی موجود ہو جس سے وہ گھر کی زینت و آرائش کا کام کروا سکے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
بعض اوقات گھر کا سرپرست انتھک محنت اور کوشش سے اپنی اور اہل خانہ کی بنیادی ضروریات اور حاجات تو پوری کر رہا ہوتا ہے لیکن اسے اپنے گھر کی خواتین سے ہر وقت یہی سننے کو ملتا ہے کہ ہماری یہ خواہش تم نے پوری نہیں کی، فلاں چیز کے لیے تو تمھارے پاس بہت پیسے ہیں لیکن ہمارے مطالبے پورے کرنے کے لیے تمھارے پاس پیسے نہیں۔
بعض خواتین کی انہی جلی کٹی باتوں کی وجہ سے گھر کا سرپرست پہلے تو دوسری نوکری کر کے اہل و عیال کی خواہشات اور آرزوؤں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب مطالبات میں مسلسل اضافہ ہوتا جاۓ تو وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ اور قرض کے نام پر پیسے وصول کر کے ان کی ضروریات پوری کرتا ہے تاکہ اپنے اہل و عیال کے چہروں پر خوشیاں بکھیر سکے۔
محض گھر والوں کو خوش کرنے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کے لیے کئی دفعہ وہ ناجائز حرکات میں بھی ملوث ہو جاتا ہے جب اہل خانہ کو اس حوالے سے معلوم ہوتا ہے تو وہ انتہائی پچھتاوے، پریشانی اور مشکل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ صورت حال مالی طور پر تو تنگی پیدا کرتی ہی ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی صحت کے لیے بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنی ضروریات کا تعین کرے۔ اپنی جائز آمدنی سے ان ضروریات اور حاجات کو پورا کرے جن کے بغیر اس کا اس دنیا میں زندہ رہنا ناممکن ہے۔ اپنے علم کی روشنی میں روزمرہ زندگی کے امور و معاملات کو مد نظر رکھتے ہوۓ اپنی ترجیحات کا درست تعین کرے۔
حتی الامکان انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ قرض لینے سے بچے۔ اپنی آمدنی میں ہی اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت اور خوددار فرد کی حیثیت سے سر اٹھا کر زندگی بسر کر سکے۔
جب ہر شخص اپنی ضروریات اور حاجات کا درست تعین کرے گا۔ جائز ذرائع سے آمدنی حاصل کر کے اپنی ضروریات کو پورا کرے گا۔ ان تمام فضول اخراجات کو ترک کرے گا۔ جن کا پورا کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں۔ تو معاشرے میں رفتہ رفتہ غربت کا مصنوعی ڈرامہ ختم ہو جاۓ گا۔











