Asfiya Nourine

علم اور تعلیم میں فرق

علم اور تعلیم میں فرق

علم اور تعلیم معاشرے میں ہر طبقے کے افراد میں استعمال ہونے والی دو ایسی اصطلاحات ہیں جنہیں ہر شخص گاہے بگاہے کسی نہ کسی موقعے پر استعمال کرتا رہتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا علم اور تعلیم دونوں اصطلاحات ایک دوسرے کے مماثل ہیں؟ اگر ہیں تو کیسے؟ کیا دونوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اگر کوئی فرق ہے تو کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر غور و خوض اور تفکر و تدبر کرنے والے شخص کے ذہن میں ضرور پیدا ہوتے ہیں لیکن ان کے جوابات تک رسائی حاصل کرنا اور انہیں سمجھنا بہت مشکل ہے۔ بعض اوقات انسان ان اصطلاحات کو سمجھ تو لیتا ہے لیکن الفاظ کی صورت میں انہیں بیان کرنا اس کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ آئیے باری باری ان سوالات کے جوابات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علم کیا ہے؟ اس سے کیا مراد ہے؟ علم معلومات کا ایسا ذخیرہ، وہ شعور اور فہم ہے جو کسی بھی فرد کو تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تعلیم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ اشیا، حقائق، قوانین فطرت اور زندگی کے دیگر معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علاوہ ازیں علم انسان کے ذہن میں موجود معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جسے وہ زندگی کے مختلف مراحل میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال میں لاتا ہے تاکہ زندگی میں درپیش پیچیدگیوں، مسائل اور مشکلات سے خوش اسلوبی سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔ علم سیکھنے کا عمل وقت، جگہ یا عمر کے کسی خاص حصے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل اور بتدریج عمل ہے جو پیدائش سے لے کر موت تک جاری رہتا ہے۔

تعلیم کیا ہے؟ اس سے کیا مراد ہے؟ تعلیم ایک باقاعدہ منظم عمل ہے جس میں عمر کے خاص حصے میں کسی مخصوص تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر کسی مخصوص شعبے کی تمام باریکیوں کو سمجھ کر اس متعلقہ شعبے میں مہارت حاصل کی جاتی ہے۔ ہر طالب علم کسی خاص شعبے میں تعلیم اور مہارت حاصل کرنے کے بعد متعلقہ شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے کر ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

علم اور تعلیم کے بارے میں درج بالا وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں مشہور و معروف اصطلاحات ہیں لیکن ان کے معنی مفہوم اور استعمال میں واضح فرق ہے۔ مختصر یہ کہ علم سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ اسے کسی کتاب کے مطالعے، استاد کی رہنمائی، تجربے یا مشاہدے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ علم کے حصول کے لیے کسی ادارے میں باقاعدہ داخلہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ تمام افراد جن کے پاس کسی ادارے سے باقاعدہ منظور شدہ سند تو نہیں لیکن ممکن ہے کہ ان کے پاس علم کا وہ ذخیرہ موجود ہو جو سند یافتہ افراد کے پاس نہ ہو۔ جبکہ تعلیم ایک منظم عمل ہے جو کسی تعلیمی ادارے میں باقاعدہ داخلہ لے کر حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں کتابیں، اساتذہ، جماعتی سرگرمیاں، نصاب، امتحانات اور اسناد شامل ہوتی ہیں۔ یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ کسی شخص کے پاس مختلف اسناد ہوں لیکن اس کے ذہن میں علم نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کی ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں۔

مختصر یہ کہ علم اور تعلیم دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ تعلیم ایک رسمی اور منظم عمل ہے جبکہ علم زندگی بھر سیکھنے والا سفر ہے۔ ایک کامیاب شخص وہی ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ علم و حکمت اور عقل و شعور سے بھی بہرہ ور ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علم اور تعلیم میں توازن اور اعتدال پیدا کیا جائے۔ انسان تعلیم کے ساتھ ساتھ علم کے حصول پر بھی توجہ دے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اپنا احتساب کرتا رہے۔ اپنے بنائے ہوئے اصولوں، نظریات اور تصورات پر نظر ثانی کرتا رہے۔ جب محسوس ہو کہ ان نظریات اور تصورات میں تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت ہے تو اس معاملے پر غور و فکر کرے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انسان کو چاہیے کہ وہ عاجزی اور انکساری کا رویہ اختیار کرے۔ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو ضرور رکھے جو اس کی اصلاح کرتے رہیں اور وہ خندہ پیشانی سے ان کی اصلاح قبول کرے۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *