دریا کا پانی بھی عجیب ہے۔ زندہ انسان کو غرق کر دیتا ہے مردہ انسان کو سطح پر پھینک دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک قدرتی حقیقت ہے بلکہ دور حاضر میں معاشرتی، اخلاقی اور فکری المیہ بھی ہے۔ حیرت انگیز سوال یہ ہے کہ یہ قدرتی حقیقت المیہ کیسے ہو سکتی ہے؟ آئیے اس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔
معاشرے میں بہت سے افراد مل کر رہتے ہیں۔ ان کے نظریات اور تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ فرق صرف ظاہری سطح تک محدود نہیں ہوتا بلکہ جذباتی، نفسیاتی اور فکری سطح تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ یوں تو معاشرے میں بسنے والے تمام افراد زندہ ہوتے ہیں۔ مگر غور کیا جائے تو ان زندہ لوگوں کی اکثریت حقیقتاً مردہ ہوتی ہے۔ سنجیدہ سوچ رکھنے والے افراد زندگی اور موت کے بارے میں ضرور سوچتے ہیں۔
معاشرے کے زندہ افراد حقیقتاً وہ ہیں جو سچائی، دیانت داری، عدل و انصاف اور دیگر اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ معاشرے میں درست اور غلط کے فرق کو پہچانتے ہیں۔ صحیح راستے کے حق میں اور غلط کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ با علم اور باشعور ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ فکری، نظریاتی اور ضمیر کے اعتبار سے صحیح معنوں میں زندہ ہیں۔ یہ افراد جب معاشرے میں پھیلی بے راہ روی، ظلم، جبر و استبداد اور دیگر اخلاقی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو معاشرے کے دیگر افراد جو ان کے مخالف ہیں۔ وہ ان باضمیر، باعلم اور باشعور افراد کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان پر پابندیاں لگا کر ان کے درست نظریات اور تصورات کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالکل دریا کی طرح جیسے دریا کی تند و تیز موجیں تیرتے ہوئے جیتے جاگتے انسان کو دبوچ کر دریا کی گہرائیوں میں لے جاتی ہیں۔ اس کے برعکس معاشرے کے مردہ انسان دراصل وہ کردار ہیں جو جسمانی طور پر تو زندہ ہیں۔ مگر فکری، اخلاقی اور نظریاتی لحاظ سے مردہ ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو باضمیر افراد کے نظریات کے بالکل خلاف عمل کرتے ہیں۔ معاشرے میں برائی کے پھیلاؤ اور پرچار میں اپنا پورا زور لگاتے ہیں۔ اس طرح کے کردار ہر شعبے میں موجود ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر ادب کے شعبے میں دیکھا جائے تو اسی لکھاری کی پذیرائی کی جاتی ہے جو روایتی موضوعات اور اسلوب کو اختیار کرے۔ اس کے برعکس وہ لکھاری جو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق موضوعات اور اسلوب اختیار کرے اسے نظر انداز کیا جاتا ہے یا دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح صحافت کے شعبے میں جو صحافی خطرات اور خدشات کی پرواہ کیے بغیر حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ عوام کے سامنے سچ کو پیش کرتا ہے۔ اسے دھمکایا جاتا ہے۔ اس پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات تو اسے جان سے ہی مار دیا جاتا ہے۔
غرض یہ کہ معاشرہ ایک دریا کی مانند ہے جو صرف انہی افراد کو قبول کرتا ہے جو معاشرے کی روایات کو اپناتے ہوئے اس کی رَو میں بہتے چلے جائیں۔ وہ باضمیر افراد جو صحیح کی حمایت اور غلط کی مخالفت میں آواز بلند کرتے ہیں۔ انہیں معاشرہ اپنی گہرائیوں کی تاریکی میں چھپا دیتا ہے۔ ان کی آواز کو دبا دیتا ہے۔ جبکہ غلط کی حمایت اور پرچار کرنے والوں کو معاشرہ چمکدار ستارے کی طرح ابھارتا ہے۔ یہ مردہ ضمیر رکھنے والے افراد معاشرے کے ساحل پر ہر وقت تیرتے رہتے ہیں۔ جس طرح ایک مردہ لاش دریا کی سطح پر تیرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں شعور بیدار کیا جائے۔ علم کو عام کیا جائے۔ باضمیر افراد کی قدر کی جائے۔ ان کی بات کو سنا جائے۔ مردہ ضمیر کے حامل افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔ باعلم افراد سے رابطہ قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ باضمیر اور باعلم افراد کو چاہیے کہ وہ مایوس ہوئے بغیر ہمت، طاقت اور استطاعت کے ساتھ پرامید لہجے میں اپنے درست نظریات اور تصورات کا عَلم بلند کرتے رہیں۔ وقت ضرور ثابت کرے گا کہ حق پر کون تھا اور ناحق کون؟











