دور حاضر میں ہر شخص روپے پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پیسہ زندگی کی ضرورت ہے یا مقصد؟ کیا پیسے کے ذریعے زندگی کی تمام خوشیاں خریدی جا سکتی ہیں؟ کیا اس کے ذریعے داخلی اور خارجی سکون اور اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ مختلف سوالات ہیں جو ہر سوچنے والے اور غور و فکر کرنے والے ہر انسانی ذہن کو مختلف انداز سے جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔ اگرچہ روپیہ پیسہ انسانی زندگی میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو پرسکون اور پر آسائش بھی بنا سکتا ہے اور پیچیدہ بھی۔ پیسے کے بارے میں ہر انسان مختلف نظریہ اور تصور رکھتا ہے جو اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پیسہ بولتا ہے جبکہ آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ پیسہ کس زبان میں بولتا ہے۔ یہ وہ تمام سوالات اور تصورات ہیں جن کے بارے میں ہر شخص خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو امیر ہو یا غریب کسی نہ کسی موقعے ہر ان سوالات کے بارے میں ضرور سوچتا ہے۔ آئیے انسانی زندگی میں پیسے کے کردار اور اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
انسانی زندگی میں پیسہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی جیسے خوراک، لباس اور رہائش جیسی ضروریات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پیسہ ناگزیر ہے۔ جب انسان کے پاس پیسہ ہو گا تو وہ بہتر انداز سے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کر سکے گا اور یونہی وہ خود مہذب انداز سے زندگی بسر کر سکے گا اور معاشرے میں بھی تہذیب کو فروغ دے سکے گا۔ پیسے کا ہی زندگی کے سکون اور اطمینان کا ذریعہ سمجھنا اور اس کو حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرنا لیکن اس محنت کے دوران اپنی ذات اور خاندانی زندگی کو نظر انداز کرنا یہ بالکل غلط ہے۔
پیسہ زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت ضروری او اہم ہے لیکن اس کی ضرورت اور اہمیت صرف اتنی ہے کہ محض اس کے ذریعے ضروریات زندگی اور وہ تمام آسائشیں حاصل کی جا سکتی ہیں جن کو پیسوں کے ذریعے خریدا جا سکتا ہے یا بیچا جا سکتا ہے۔ روپے پیسے کو اخلاقی حسن، دلی سکون اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے خواب و خیال میں بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مرتبہ ایک غریب شخص نے امیر شخص سے سوال کیا کہ اے حضرت!
آپ کے پاس دنیا جہاں کی دولت ہے تمام مادی آسائشیں موجود ہیں لیکن پھر بھی آپ کا چہرہ مرجھایا ہوا رہتا ہے جبکہ آپ کے پاس کسی چیز کی کوئی کمی نہیں۔ اس امیر شخص نے جواب دیا اگرچہ میرے پاس بظاہر کسی شے کی کوئی کمی نہیں لیکن دنیا کا سب سے بڑا مفلس میں ہی ہوں کیوں کہ میرے پاس دلی سکون اور اطمینان نہیں۔ میں نے ساری زندگی پیسہ کمانے میں تو صرف کی اس دوران اپنی جسمانی صحت اور رشتے داروں کے ساتھ تعلق اور میل ملاپ پر کوئی توجہ نہ دی ہر وقت میری توجہ اس بات پر ہی رہی کہ مال زیادہ سے زیادہ کیسے کمایا جائے زیادہ سے زیادہ منافع کیسے حاصل کیا جائے ہر وقت اسی حوالے سے منصوبہ بندی ہی کرتا رہتا۔ آج جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے تو پیسے ہیں مگر دلی سکون اور اطمینان کے لیے کچھ نہیں۔
اگرچہ پیسہ کمانا کوئی برا عمل نہیں اسلام میں بھی کسب حلال کو بڑی اہمیت دی گئی ہے حدیث شریف میں آتا ہے ”حلال کمانے والا اللّٰہ کا دوست ہے“ اسی طرح روپے پیسے کی متوازن گردش کے لیے بھی اسلام میں زکٰوۃ اور صدقات کا نظام بیان کیا گیا ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے کے بجائے گردش میں رہے اور غریب لوگ بھی اپنی ضروریات زندگی با آسانی پوری کر سکیں۔
دور حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ پر سکون اور پر اطمینان زندگی گزارنے کے لیے روپیہ پیسہ کمانے کے لیے حلال ذرائع اختیار کریں۔ اپنی ذات شخصیت اور خاندان کو فراموش نہ کریں۔ پیسے کو زندگی کا مقصد نہ بنائیں بلکہ اسے ضرورت ہی کے درجے میں رکھیں کیوں کہ یہ ہے بھی ضرورت۔ جب انسان زندگی میں پیسے کو ضرورت سمجھے گا اس بات کا یقین رکھے گا کہ اس کے ذریعے میں صرف اپنی ظاہری زندگی کو سنوار سکتا ہوں بنیادی ضروریات زندگی کو ہی پورا کر سکتا ہوں اس کے ذریعے روحانی سکون کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تو وہ روپے پیسے کی بے جا محبت سے محفوظ رہے گا اور اس کی زندگی اطمینان سے گزرے گی۔











