دور حاضر میں تعلیم کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ ڈگری یافتہ افراد کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ہر طالب علم ڈگری مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں نوکری کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نوکری کے لیے مختلف ادارے تو دستیاب ہیں۔ جو نوکری کے نئے متلاشی افراد کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف بھرتیوں کے لیے آسامیوں کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ان میں کچھ ادارے سرکاری ہیں، کچھ نیم سرکاری اور کچھ پرائیویٹ ہیں۔ ہر ادارہ اپنے تقاضوں اور ضرورت کے مطابق مختلف آسامیوں پر بھرتیوں کے اعلانات کرتا رہتا ہے۔ یہ سلسلہ تو دستور کے مطابق جاری و ساری ہے۔
نوکری کے متلاشی طبقے کی بات کی جائے تو ہر فرد کی دلچسپی مختلف ہے۔ کوئی سرکاری ادارے میں کام کرنا چاہتا ہے۔ کوئی نیم سرکاری میں اور کوئی پرائیویٹ ادارے میں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ نوکری کے اشتہارات دیکھنے کے بعد ہر امیدوار اپنی درخواست جمع کرواتا ہے۔ کچھ خوش قسمت نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کچھ اس سلسلے میں مسلسل کوششیں جاری رکھتے ہیں۔ اس سارے تناظر میں حکومت کی جانب سے تو مخصوص تعداد میں نشستوں پر بھرتی کی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے۔ کہ حکومت کی جانب سے جس تعداد میں نشستوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ وہ نوکری کے متلاشی افراد کی آدھی آبادی سے بھی کم ہیں۔ مثال کے طور پر اگر حکومت نے اردو لیکچرار کی نشست کے لیے نوے آسامیوں کا اعلان تو کر دیا ہے۔ لیکن ان آسامیوں پر اپلائی کرنے والے امیدوار تو تقریباً چھے سو ہیں۔ اب ٹیسٹ تو سب دے دیں گے۔ مگر انٹرویو کے لیے تو کم و بیش ڈیڑھ سو امیدوار ہی نامزد ہوں گے۔ ان میں سے صرف نوے افراد کو نوکری ملے گی۔ باقی تمام امیدوار ایک مرتبہ پھر روزگار کی تلاش کے سفر میں نکل پڑیں گے۔
اس سارے تناظر میں لوگوں کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طبقے نے آن لائن ورک کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ بے روزگاری سے پریشان افراد پیسے کمانے کے چکر میں ان لوگوں کے ہاتھوں مسلسل لوٹ مار کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ فریبی اور مکار طبقہ کبھی اسائنمنٹ ورک کے نام پر، کبھی ممبر ایڈنگ کے نام پر اور کبھی اپنی کمپنی کو باقاعدہ ایف بی آر سے رجسٹر شدہ قرار دے کر لوگوں کو کاروبار کے لیے آمادہ کر کے بے وقوف بناتا ہے۔ یہ کمپنیاں موٹیویشنل سپیکنگ، انوٹیٹر، نیٹ ورکنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں کا تعارف نہایت موثر انداز سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش کرتے ہیں۔ اپنے دلکش پریزنٹیشن اور نرم لہجے سے لوگوں کو بے روزگاری سے نجات پانے کے چکر میں پھنساتے ہیں۔ سسٹم کا حصہ بننے کے بعد مطلوبہ شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر تعارف تو کچھ اور پیش کیا گیا تھا۔ تعارف میں بیان کردہ کام کا تو یہاں نام و نشان ہی نہیں ہے۔ یہاں تو صرف لوگوں کو دعوت دے کر سسٹم میں داخل کروانا ہے اور ان سے مختلف چارجز کے نام پر پیسے وصول کرنے ہیں۔
دوسری طرف افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ہماری عوام کی اکثریت کا یہ عالم ہے کہ تحقیق اور جستجو کا جذبہ تو ان میں ناپید ہو چکا ہے۔ تمام تر ترجیح اور اہمیت صرف اور صرف انہوں نے پیسے کو دے رکھی ہے۔ جب انہیں کچھ بھی پتا چلتا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے وہ اس پر اپنی جمع پونجی لوٹانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
اس تمام صورت حال میں بڑی تعداد میں لوگ کنگال بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن ایک دوسرے کو آن لائن ورک کی ترغیب کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ نقصان اٹھا کر اصلاح قبول کر رہے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس فریب سے آگاہ کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ تو نقصان اٹھانے کے باوجود یہ راستہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بعض ایسے دانا لوگ بھی موجود ہیں۔ جو محض ان واقعات سے ہی نصیحت حاصل کرتے ہوئے ایسے تمام ذرائع سے دور ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں آگہی پھیلانے کا بیڑہ بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ زندگی میں ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی چیز نہ تو مکمل طور پر فائدہ مند ہوتی ہے۔ نہ ہی مکمل طور پر ضرر رساں۔ یہی حال آن لائن دنیا کا بھی ہے۔ اگرچہ اکثر و بیشتر آن لائن ذرائع روزگار دھوکا اور فریب ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح رہے فری لانسنگ اور ویب ڈویلپنگ مستند اور معیاری روزگار کے آن لائن مواقع تو ہیں۔ مگر صرف ماہر اور قابل افراد کے لیے سودمند ہیں جو ان شعبوں میں مکمل عبور رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان شعبوں کے قواعد و ضوابط اور احتیاطی تدابیر سے بھی واقف ہوں۔
اس کے علاوہ کچھ بینڈز اور کمپنیاں آن لائن خرید و فروخت کا کاروبار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس سے تاجر اور صارف دونوں کو فائدہ اور سہولت میسر ہے۔ اگرچہ اس میں بھی بعض مقامات پر فریب کا شبہ تو پیدا ہوتا ہے۔ مگر یہ سہولت حاصل کرنے والے کی سمجھ بوجھ پر موقوف ہے کہ اسے ان ذرائع کی موزونیت، سند اور معیار کا کتنا علم ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ انہیں آگہی فراہم کی جائے کہ آن لائن ورک کا جھانسا دینے والے لوگ مختلف کمپنیوں کے نام سے مختلف اوقات میں مختلف روپ میں سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صرف عوام کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہیں بے وقوف بنا کر صرف اپنی جیبیں بھاری کر رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ ہوشیار رہیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بے روزگاری کے مسئلے پر سرکاری سطح پر اقدامات کرے۔ نوکریوں کے لیے نشستوں کی تعداد اور امیدواروں کی تعداد میں توازن پیدا کرے۔ نو جوان نسل کو چاہیے کہ وہ تعلیم پر توجہ دے۔ ہنر سیکھے۔ محنت اور جہد مسلسل سے کام کرے۔ شارٹ کٹ طریقے تلاش نہ کرے۔ مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے دھوکے باز گروہوں کا صرف کاغذی قانون کی سطح پر ہی قلع قمع نہ کرے بلکہ عملی طور پر ان کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے انہیں سزا دے تاکہ یہ عبرت کا نمونہ بنیں۔ اور معاشرے سے اس دھوکہ دہی کی اخلاقی برائی کا خاتمہ ہو سکے۔ مزید براں یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ حقیقی کامیابی صرف محنت، استقامت اور جہد مسلسل کی مرہون منت ہے۔ اور روزگار کے ذرائع وہی مستند اور معیاری ہیں جن میں کام کرنے والے کی محنت اور وقت صرف ہو۔ آن لائن ذرائع صرف روزگار کا سنہری نعرہ، وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔











