انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ وہ اس دنیا میں مختلف لوگوں سے تعلق استوار کرتا ہے۔ تعلقات کی استواری کا سلسلہ اس کی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے اور موت تک جاری رہتا ہے۔ زندگی کے سفر میں انسان کے ساتھ مختلف لوگ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ مختلف افراد انسانی زندگی میں موقع و محل کے مطابق آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ان افراد میں انسان کے رشتے دار، دوست احباب شامل ہوتے ہیں۔ دوست احباب کی فہرست بہت طویل ہوتی ہے جن میں کچھ دوست تعلیمی سفر میں بنتے ہیں، کچھ نوکری کے دوران اور کچھ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اتفاقاً بھی بن جاتے ہیں۔
آج کے انسان کی بات کی جائے تو اس کے پاس دوست احباب اور متعلقین کا ایک ہجوم ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ تنہا ہے۔ وہ ہر شخص سے رابطے میں تو ہے لیکن کسی نہ کسی مقصد اور ضرورت کے تحت۔ بعض اوقات کوئی شخص خلوص اور محبت سے رشتہ نبھا رہا ہوتا ہے لیکن لوگ عمومی روش کی بنا پر اس سے بدگمان ہوتے رہتے ہوتے ہیں۔
دور حاضر میں ہر شخص رشتے ناتوں اور ارد گرد لوگوں کی بھیڑ کے باوجود یہی شکوہ و شکایت کرتا سنائی دیتا ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں۔ سب مفاد پرست ہیں۔ مقصد اور ضرورت پوری کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں۔
غور و فکر کیا جائے تو ان قائم رشتوں کے باوجود جب انسان کسی مقام پر بظاہر تنہا ہو تو وہ تنہا نہیں بلکہ خلوت میں بھی ہجوم میں گرفتار ہوتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ اور تفکر کرنے والا نقطہ ہے۔ آئیے اس بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کیسے۔
انسان کے اندر ایک وسیع جہاں آباد ہے۔ اس کے داخل میں ہر لمحہ مختلف خیالات، تصورات، جذبات اور احساسات برق رفتاری سے گردش کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تصورات اور خیالات شعوری ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض غیر شعوری۔
انسان خارجی دنیا میں رونما ہونے والے مختلف واقعات اور پیدا ہونے والے مختلف حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کے ذہن میں انواع و اقسام کے تصورات اور خیالات اور چہرے پر خوشگوار یا ناگوار تاثرات ظاہر ہوتے ہیں۔
زندگی کے مشاہدے اور تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان اپنا دوست خود ہے۔ اسے سب سے پہلے اپنے آپ سے مخلص ہونا چاہیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے آپ سے مخلص ہونے کا کیا مطلب ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
اپنے آپ سے مخلص ہونا، یعنی علم حاصل کرنا، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اس بات کا کھوج لگانا کہ میں کیا کر سکتی ہوں؟ پھر اس تحقیق کے بعد اپنی صلاحیتوں کو بہتر جگہوں پر استعمال کرنے کے لیے مواقع تلاش کرنا، ارد گرد کے مصلحین اور باعلم افراد سے رابطہ رکھنا۔ ان سے اصلاح لینا۔
تنہائی میں بھی انسان ہجوم میں گرفتار کیسے ہے؟ نہایت حیرت انگیز سوال ہے۔ وہ اس طرح کہ جب انسان کسی کمرے میں جسمانی طور پر تنہا ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں خیالات اور تصورات کا جو انبار لگا ہوتا ہے۔ یہ انبار اس کا دوست ہے۔ بشرطیکہ وہ ان خیالات اور تصورات پر غور و فکر کرے۔ اللّٰہ تعالٰی سے اپنے تعلق کو مضبوط کرے۔ جب وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی مقام حاصل کر لے گا تو لوگ حقیقی معنوں میں اس سے دوستی کریں گے۔
خلاصہ یہ کہ اس دنیا میں انسان تنہا آتا ہے اور تنہا ہی جاتا ہے۔ اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال ہی جاتے ہیں۔ دنیا میں زندگی کے دوران اس کے تصورات اور نظریات ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں جو اسے کبھی بھی تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتے بشرطیکہ انسان خود اس بات کا احساس کرے۔ اپنے آپ کو اہمیت دے۔ اپنی صلاحیتوں کو مثبت، تعمیری اور معیاری کاموں میں صرف کر کے اپنی شناخت پیدا کرے۔
خلاصہ یہ کہ انسان علم سیکھے۔ اپنی ذات کی معرفت حاصل کرے۔ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ پھر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت اور تعمیری کارنامے سرانجام دے۔ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرے۔ حقوق اللّٰ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ایمانداری اور خلوص نیت کو اہمیت دے۔ درست اور غلط کی پہچان کرنا سیکھے۔ اس پہچان کے بعد صحیح راستے پر چلے۔ ہر وقت علم کی تلاش اور جستجو میں مستغرق رہے۔











