صحرا اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق کا کیسا منفرد نمونہ ہے۔ جو صدیوں سے خاموش ہے۔ سورج کی تند و تیز شعاعوں کی طپش برداشت کر رہا ہے۔ وہ کبھی اپنی مشکل کا ذکر نہیں کرتا۔ مگر جب زندگی کے آثار ختم ہونے لگتے ہیں تو مجبوراً آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ بارش برسنے کی التجا کرتا ہے۔ بادل اس خاموش صحرا کی التجا پر اس کی مدد کو تو آتے ہیں۔ مگر پہلے صرف ہوا آتی ہے۔ جو امید دلاتی ہے۔ کہ اب بادل آئیں گے۔ پھر طویل انتظار کے بعد بادل تو آتے ہیں۔ مگر وہ ابتدا میں اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلے گرجتے ہیں۔ پھر کڑکتے ہیں۔ پھر کہیں جا کر برستے ہیں۔ بادلوں کی گرج، چمک اور کڑک صحرا کو اس بات کا احساس دلاتی ہے۔ کہ جان لو صحرا! میں نہ ہوتا تو تم کچھ بھی نہ کر سکتے۔
یہی حالت انسان کی بھی ہے۔ دنیا میں یوں تو ہر انسان کسی نہ کسی طرح دوسرے شخص کا محتاج ہے۔ جیسے طلبہ تعلیم کے سلسلے میں اساتذہ کے، اولاد بنیادی ضروریات زندگی کی تکمیل کے سلسلے میں والدین کی، اسی طرح مسافر سفر کے سلسلے میں ڈرائیور، ملاح، پائلٹ وغیرہ کے محتاج ہیں۔ یہ مذکورہ لوگ چونکہ اپنا کام بطور روزگار اور فرائض سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع بہت کم ہی کرتے ہیں۔
اگرچہ دنیا میں لوگ اپنے اکثر و بیشتر امور زندگی خود انجام دیتے ہیں۔ مگر کسی لمحے پر تو انہیں دوسروں کی ضرورت تو پڑتی ہے۔ اس موقع پر کچھ لوگ دوسروں کی مدد خوش دلی سے کرتے ہیں۔ کچھ اس سے پہلے اپنی گرج چمک اور کڑک یعنی غصے سے مدد کے طالب شخص کے ذہن میں اپنی منفی تصویر ضرور نقش کر دیتے ہیں۔
مدد اور تعاون کا یہ سلسلہ یوں تو انسانوں کے مابین جاری و ساری ہے۔ مگر مخصوص تناظر میں کچھ ایسے مخصوص افراد کی بات کی جائے۔ جو کسی جسمانی عیب یا کسی دوسرے مسئلے کی بنا پر دوسروں سے ذرا مختلف انداز سے زندگی کے امور سر انجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد جب کسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ تو انہیں بذات خود اور مدد کرنے والوں کو کچھ ایسی ذہنی اور نفسیاتی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن کا باہم تبادلہ نہ ہونا آپس کے تعلقات میں تلخی کا باعث بنتا ہے۔
اس سلسلے میں اگر جسمانی معذور شخص کی بات کی جائے۔ جس کے ہاتھ، پاؤں، بازو یا ٹانگ میں مسئلہ ہے۔ جس کے باعث اسے دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ وہ حتی الامکان اپنے کام خود کرتا ہے۔ مگر جب اسے کسی کو یہ کہنا پڑتا ہے۔ کہ مجھے فلاں جگہ سے فلاں جگہ سہارا دے کر لے جاؤ تو بعض افراد تو فوراً انکار کر دیتے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے، ایسا نہ ہو تم گر جاؤ۔ وہ اس خوف سے سہارا دینے سے انکار کر دیتے ہیں، ان کے اندر یہ خوف ان کی ناتجربہ کاری کی بنا پر ہوتا ہے۔
بعض افراد خوشی خوشی لے جاتے ہیں۔ جبکہ بعض افراد مدد تو کر دیتے ہیں۔ مگر دل میں پیدا ہونے والے ناگوار جذبات اور کیفیات کا اظہار زبان سے کر کے مطلوبہ شخص کے دل میں اپنا منفی عکس بھی نقش کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد اخلاقاً تو بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ مگر مدد و تعاون کے سلسلے میں دور ہی رہتے ہیں۔ یہ سوچ کر کہ کہیں اس چکر میں پھنس گئے تو بہت الجھ جائیں گے۔
اس سارے تناظر میں مطلوبہ شخص بعض اوقات دکھی ہو کر نفسیاتی کمزوری کی بنا پر اللّٰہ تعالٰی سے شکوہ و شکایت کرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات دل ہی دل میں سوچ لیتا ہے۔ کہ آئندہ اس شخص سے کبھی کوئی کام نہیں کہوں گا۔ اور وہ خود دار شخص اپنی خود مختاری کے سلسلے میں مزید سوچ بچار کرنے لگتا ہے۔ یہ تو تھی معاشرتی مشکل۔ جبکہ ان کی تعلیمی زندگی کے مسائل سماجی زندگی کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس خصوصاً نابینا طلبہ کی زندگی کی بات کی جائے۔ تو بعض نابینا طلبہ اپنی خود اعتمادی اور حوصلہ مندی سے معاشرتی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اقدامات تو جاری رکھتے ہیں۔ مگر جب کبھی ایسی مشکل یا ناگوار رویہ پیش آئے جو ان کی طبیعت مرضی اور سوچ کے خلاف ہو تو اس منفی رویے کو اپنی نفسیات پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ وقتی طور پر تو فطری دکھ محسوس کرتے ہیں مگر بعد میں نظر انداز کر کے بھول جاتے ہیں۔
تعلیمی مسائل کی بات کی جائے۔ تو نابینا طلبہ کو اس سلسلے میں سب سے بڑا مسئلہ کلاس میں اس وقت پیش آتا ہے۔ جب استاد روایتی انداز سے بورڈ پر لکھ کر یا پروجیکٹر پر سلائیڈز دکھا کر لیکچر ڈیلیور کرتا ہے۔ ساتھ ساتھ ایک ایک سطر پڑھنے کے بعد یہ کہتا ہے۔ کہ تفصیل آپ خود پڑھ لیجیے گا۔ بلکہ بعض اساتذہ تو پی ڈی ایف بھیج دیتے ہیں۔ جن کا پڑھنا مشکل تو ہوتا ہے۔ مگر ناممکن نہیں۔ اس مسئلے کا حل طلبہ یوں نکالتے ہیں۔ کہ وہ اپنے ہم جماعتوں سے درخواست کر کے یہ تمام متن آڈیو کی صورت میں ریکارڈ کروا لیتے ہیں۔ پھر سنتے ہیں۔ اب بعض لوگ اس مجبوری کو سمجھتے ہیں۔ اور جیسے مطلوبہ شخص کہتا ہے۔ ویسے ہی اس کی مدد کرتے ہیں مگر بعض لوگ یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ اب تو ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت زیادہ ترقی ہو گئی ہے۔ ایسے سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز موجود ہیں۔ جو تحریری متن کو آواز کی صورت میں بدل دیتی ہیں۔ جن کو نابینا طلبہ باآسانی سن سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ایسے سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز ضرور موجود ہیں۔ جن سے طلبہ کی تعلیمی زندگی آسان تو ہو گئی ہے۔ مگر مکمل خود مختاری فی الحال حاصل نہیں ہو سکی۔
یہ ذرائع انگریزی زبان کے ساتھ تو تقریباً ہم آہنگ ہیں۔ طلبہ انگریزی متن کو تحریر سے تقریر میں منتقل کر کے سن سکتے ہیں۔ مگر پھر بھی کبھی طلبہ کو کسی لفظ کے معنی و مفہوم کو سمجھنے یا اس لفظ کے حروف چیک کرنے کے لیے کسی نہ کسی سے پوچھنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ یہ سافٹ ویئرز بعض اوقات جو کچھ آواز کی صورت میں بتا رہے ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ سکرین میں دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ یا اس کا سائز اتنا چھوٹا اور رنگ اتنا پھیکا ہوتا ہے۔ کہ بتانے والے کو نظر ہی نہیں آ رہا ہوتا۔ اب نابینا شخص کو لگتا ہے۔ کہ یہ شخص مجھے نہیں بتا رہا۔ اور بتانے والا کہتا ہے۔ مجھے کچھ نظر ہی نہیں آ رہا۔ اس موقع پر ایک دوسرے کی بات کو نہ سمجھنے کی بنا پر دونوں میں کبھی کبھی تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہو جاتا ہے۔ جو دونوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر متاثر کرتا ہے۔
اس کے برعکس کچھ طلبہ جو نفسیاتی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ وہ ان مسائل سے خوفزدہ ہو کر یا تو تعلیمی زندگی سے کنارہ کشی کر لیتے ہیں۔ یا منفی رویوں اور تکالیف سے اس قدر دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ کہ نہ تو اپنے شوق اور دلچسپی کو پورا کر پاتے ہیں۔ اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں بروئے کار لاتے ہوئے تعمیری اور مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ نابینا طلبہ کو سماجی اور تعلیمی زندگی میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر تعلیمی مسائل طلبہ کو ذہنی طور پر زیادہ متاثر اور فکر مند اس لیے کرتے ہیں۔ کیوں کہ کامیاب تعلیمی زندگی ہی ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ جبکہ سماجی مسائل کو طلبہ اکثر خود نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات ان مشکلات کو روزمرہ کا معمول سمجھ کر ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جسمانی معذوریوں اور نابینا پن کے حوالے سے آگہی پھیلائی جائے۔ اس تاثر کو عام کیا جائے کہ یہ لوگ بھی وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو ایک عام انسان کر سکتا ہے اگرچہ ان کا طریقہ اور طرز مختلف ہو گا۔ بعض اوقات انہیں کسی کی مدد کی ضرورت بھی پڑے گی تو اس صورت میں کھلے دل سے ان کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ معذور افراد خصوصاً نابینا افراد کو چاہیے کہ وہ پر اعتماد رہیں اپنی زندگی کو خود مختار بنانے کے لیے تمام وسائل اور ذرائع سے استفادہ کریں۔ انفرادی سطح پر اپنے قریبی لوگوں خصوصاً اہل خانہ کو اپنے مسائل سے نہ صرف آگاہ کریں بلکہ انہیں حل کرنے کے طریقے بھی بتائیں کہ آپ میری مدد اس طرح کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ زندگی امتحان ہے۔ نہ اس میں صرف پھول ہیں اور نہ ہی صرف خار ہیں۔ بلکہ یہ پھولوں اور کانٹوں کا حسین امتزاج ہے جس میں اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز آتے رہیں گے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنی سوچ کو مثبت رکھے، اپنے مسائل کا ذکر کر کے ان پر ماتم کرنے کی بجائے ان کے حل پر غور کرے، پھر موثر حل کا اپنے مسئلے کو دور کرنے کے لیے اطلاق بھی کرے۔
اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بد گمان نہ ہوں کہ وہ ہمیں سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ بلکہ موقع و محل اور ضرورت کے مطابق خود انہیں سمجھائیں۔ اپنے مسائل سے آگاہ کریں۔ حل کی تجاویز بھی پیش کریں کہ وہ مطلوبہ مسائل اور صورت حال میں آپ کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ اس روش سے انسان نہ خود اپنے آپ پر بوجھ بنے گا نہ اس کے سماجی دائرے کے لوگ اسے بوجھ تصور کریں گے۔











