Asfiya Nourine

حق اور فرض میں فرق

حق اور فرض میں فرق

انسانی معاشرہ حقوق اور فرائض کی بنیاد پر قائم ہے۔ معاشرے کے ہر فرد پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں جن کی ادائیگی اس پر لازم ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر فرد کچھ ایسی چیزوں کا مطالبہ کر سکتا ہے جن کے مانگنے کی اجازت اسے مذہب، اخلاقیات، قانون اور معاشرہ دیتا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس فرد کا حق کہلاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر فرد حق اور فرض کی اصطلاحات استعمال کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حق اور فرض میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہے تو کیا؟ اگر دونوں مماثل ہیں تو کیسے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو گہرے غور و خوض اور تفکر و تدبر کرنے والے شخص کے ذہن میں ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ آئیے اس تحریر کے ذریعے حق اور فرض کے بارے میں جانتے ہیں۔

فرض کسی بھی فرد پر عائد وہ ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی اس پر لازم ہے۔ یہ ذمہ داری قانون، معاشرے، مذہب یا اخلاقیات کی جانب سے ہو سکتی ہے۔ ہر فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی ان ذمہ داریوں کا علم حاصل کرے جو اس کے لیے فرائض کا درجہ رکھتی ہیں۔ جیسے ایمان داری، سچ بولنا، قانون کی پاسداری، اپنے فرائض منصبی کو بخوبی انجام دینا یہ وہ ذمے داریاں ہیں جو ہر فرد کے لیے فرض کا درجہ رکھتی ہیں۔

حق کسی فرد کا اپنے لیے ایسی چیز طلب کرنا جس کی اجازت اسے مذہب، معاشرے، اخلاقیات اور قانون دیتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایک فرد کا فرض دوسرے کا حق بن جاتا ہے۔ جیسے اولاد کی تربیت والدین کا فرض ہے تو اولاد کا حق۔ اسی طرح بیوی کو نان نفقہ فراہم کرنا شوہر کا فرض ہے اور یہی فرض بیوی کا حق ہے۔ طلبہ کو ایمان داری سے پڑھانا اور علم سکھانا استاد کا فرض ہے لیکن استاد کا یہ فرض طلبہ کا حق ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر فرد کا حق دوسرے کا فرض ہے۔ اس کے برعکس ہر فرد کا فرض دوسرے کا حق ہے۔

المناک صورت حال یہ ہے کہ دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں ہر فرد اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے سنائی دیتا ہے لیکن اگر اس سے حق کی تعریف پوچھ لی جائے تو وہ اس کو بیان کرنے سے اکثر و بیشتر قاصر ہوتا ہے۔ جیسے خاندانی زندگی میں خواتین ہر وقت اپنے شوہر سے براہ راست مطالبہ کرتی ہوئی یا مختلف خواتین آپس میں یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہمارا شوہر ہمارے حقوق ادا نہیں کرتا۔ اگر ان سے پوچھ لیا جائے تو وہ اپنی ایسی خواہشات کو اپنے حقوق بتاتی ہیں جن مذہب، معاشرے، اخلاقیات یا قانون نے کوئی تصور ہی نہیں دیا۔ جب ان سے کہا جائے کہ تم شوہر کے گھر میں رہتی ہو۔ وہ تمھیں خوراک، لباس اور رہائش جیسی ضروریات زندگی اپنی استطاعت اور معیار کے مطابق فراہم کرتا ہے؟ جواب دیتی ہیں یہ چیزیں تو ہر کسی کا شوہر اسے دیتا ہے۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ بتائیں کہ آپ کی نظر میں آپ کے کیا حقوق ہیں۔ تو اپنی خواہشات کی ایک طویل فہرست کو اپنے حقوق قرار دیتی ہیں جیسے جیب خرچ دینا، سونے، چاندی کے سیٹ بنوا کر دینا اور اس طرح کی دیگر خواہشات اور آرزوئیں جن کا مطالبہ کرنا اول تو عورت کے لیے جائز نہیں بشرطیکہ شوہر ان مطالبات کو پورا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ لیکن اگر شوہر مالی حیثیت رکھتا ہے تب بھی اگر وہ بیوی کی ان خواہشات کو پورا نہ کرے تو اس کی کوئی گرفت نہیں۔ اگر کر دے تو بیوی کو خوشی حاصل ہو گی۔ گھر کا ماحول خوش گوار ہو گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنی حیثیت کے اعتبار سے اپنے حقوق و فرائض کا علم حاصل کرے۔ یعنی ایک فرد کے بطور شوہر، باپ، بیٹا اور دیگر حیثیتوں سے کیا حقوق و فرائض ہیں۔ اسی طرح عورت بھی یہ جانے کہ بیوی، بہن، ماں اور بیٹی کی حیثیت سے اس کے کیا فرائض ہیں۔ جب معاشرے کا ہر فرد حقوق و فرائض کا علم حاصل کر لے گا تو معاشرے میں امن، احترام اور خوش اخلاقی کی فضا قائم ہو گی۔ جب ہر فرد اپنے فرائض ادا کرے گا تو یقیناً فر فرد کے حقوق خود بخود ادا ہوتے رہیں گے اور کسی کو اپنے حقوق کی تلفی کی شکایت نہیں ہو گی۔ یوں معاشرہ ذمے دار اور فرض شناسا لوگوں کا مجموعہ بن جائے گا جس سے ملک و قوم کی اخلاقی اور معاشرتی حالت کا معیار بلند ہو گا۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *