انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اسے پیدائش سے لے کر موت تک دوسروں کی معاونت اور رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص بذات خود خود مختار ہو یا دوسروں پر انحصار کرتا ہو۔ اس کی خود مختاری یا محتاجی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسے کسی نہ کسی لمحے کسی دوسرے شخص کی ضرورت ضرور پڑتی ہے۔
ابتدائی زمانے میں لوگ آپس میں جڑے ہوتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کی خبر رکھتے تھے کہ اس کے حالات ٹھیک ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ان احساسات و جذبات میں تبدیلی آتی گئی۔ یہاں تک کہ موجودہ دور آ گیا۔
دور حاضر میں سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں ایجاد ہونے والے جدید ترین مواصلاتی آلات نے جہاں انسان کو بہت سے ظاہری فوائد سے نوازا ہے۔ وہاں اسے بہت سے نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی مسائل سے بھی دوچار کیا ہے۔
اعلٰی طبقے یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ہر چیز کی تشہیر کبھی سٹیٹس، پوسٹس اور سٹوریز کی صورت میں اور کبھی بلوگز کی صورت میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ تشہیر انہیں مثبت تبصروں کے نتیجے میں ذہنی سکون فراہم کرتی ہے۔ جبکہ منفی کو مینٹس کی صورت میں یہ تشہیر ان کے لیے داخلی بے سکونی اور ڈپریشن کا باعث بھی بنتی ہے۔
دوسری طرف اس تمام مواد کو دیکھنے والے وہ افراد جن کی رسائی ان چیزوں اور اعلٰی معیار زندگی تک نہیں ہے۔ وہ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ آئیے اس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔
ان مواصلاتی آلات کی بدولت انسان کو ہر لمحہ پوری دنیا تک رسائی تو حاصل ہے۔ وہ جو چاہے، جب چاہے جیسا مواد چاہے صرف ایک انگلی کی جنبش سے دیکھ سکتا ہے۔ مگر سماجی رابطے کی ویبسائٹس پر اپلوڈ ہونے والے مواد نے انسان کو ذہنی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔ یہ اثرات مثبت بھی ہیں اور منفی بھی۔
مثبت اثرات کی بات کی جائے تو باشعور افراد نے ان آلات کو اپنے علم کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ علاوہ ازیں ان آلات کے وسیلے سے روزگار کے مواقع سے استفادہ کیا۔ اپنی زندگی کے دیگر امور کو سہل اور آسان بنایا۔ سماجی رابطے کی ویبسائٹس پر مثبت، تعمیری اور معیاری مواد اپلوڈ کر کے ملک و قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا۔
منفی اثرات کی بات کی جائے تو وہ لوگ جو نفسیاتی اعتبار سے کمزور تھے۔ انھوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف چیزوں کو دیکھا۔ ان چیزوں سے محرومی کے نتیجے میں وہ احساس محرومی کا شکار ہو کر مختلف ذہنی امراض اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو گئے۔ اس ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ اپنی دیگر خداداد صلاحیتوں کو بھی نہ ہی اجاگر کر سکے اور نہ ہی انھیں مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کر سکے۔ اس کے نتیجے میں وہ بیماریوں کا مجموعہ بن گئے یا تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہو کر مجرم قرار پائے اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دور جدید میں جدید ترین آلات کا استعمال سیکھے۔ ان آلات سے استفادہ بھی کرے۔ مگر سوشل میڈیا پر دیکھنے والی مختلف چیزوں سے دل نہ لگائے خاص طور پر ان چیزوں سے جو اسے دستیاب نہیں۔ بلکہ مثبت سوچتے ہوئے یقین رکھے کہ جو میرے پاس ہے۔ وہ میرے لیے بہتر ہے۔ میں اسی چیز کا مستحق اور اہل ہوں۔ البتہ محنت اور کوشش سے اپنے حالات کو بہتر سے بہترین کرنے کے لیے سرگرم عمل رہے۔ تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کر کے اپنی ذات، خاندان، معاشرے اور ملک و قوم کے لیے خدمت کا ذریعہ بن سکے۔











