Asfiya Nourine

افراد کے ہجوم میں تنہا انسان

افراد کے ہجوم میں تنہا انسان

شہروں کی چکا چوند، لوگوں کا ہجوم، آوازوں کا شور اور ارد گرد کے ماحول میں ہر طرف چمک اور روشنی لیکن اس سب کے باوجود آج کے انسان کی دل کی گلیاں ویران اور بیابان ہیں۔ ہر انسان مختلف رشتوں ناتوں، دوستیوں اور دیگر سوشل میڈی ایپس کے ذریعے دور دراز کے مختلف لوگوں سے تو رابطے میں ہے لیکن وہ جذباتی، نفسیاتی اور دلی طور پر کتنا تنہا ہے۔ اس حوالے سے کبھی کسی نے سوچا ہے۔ اس تنہائی کے اسباب کیا ہیں اور اس کے اثرات کیا ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں ہر درد و غم رکھنے والا شخص ضرور سوچتا ہے۔ ان سوالات کے بارے میں خصوصی طور پر وہ افراد زیادہ متفکر نظر آتے ہیں جنہیں یہ تنہائی تکلیف دیتی ہے۔

دور حاضر میں سائنسی ترقی اور صنعتی انقلاب کے نتیجے میں بڑی تیزی سے وہ چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں جن سے انسانی زندگی آسان سے آسان اور تیز تر سے تیز ترین ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن اس سہل پسندی نے انسان کو اپنے آپ میں اتنا مگن کر دیا ہے کہ وہ ان تمام آسائشوں کو حاصل کرنے کے لیے صبح اٹھتے ہی مشین کی طرح کام میں مصروف ہو جاتا ہے اور رات تک انہی کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ سارے دن کی اس محنت و مشقت میں انسان اپنی ذات کو بھی فراموش کر دیتا ہے۔ بعض اوقات تو اسے اپنے کھانے پینے اور آرام و سکون کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ اسی چکر میں رہتا ہے کہ کیسے زیادہ سے زیادہ مال کما کر پیسہ حاصل کر کے مادی آسائشوں کو حاصل کیا جائے اور کامیابی حاصل کی جائے۔ اس سوچ نے انسان کو مادہ پرست بنا دیا ہے۔

علاوہ ازیں دور حاضر کی سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب، مادہ پرست سوچ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں ایجاد ہونے والے جدید مواصلاتی آلات نے انسان کی معاشرتی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ جدید دور میں انسان کے ارد گرد اس کے رشتے داروں، دوست احباب اور پڑوسیوں کا ہجوم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے دنیا بھر کے تمام حصوں سے باخبر ہے اور مختلف حصوں میں بسنے والے لوگوں سے بھی رابطے میں ہے۔

وہ ارد گرد کے رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب سے بھی ملتا تو ہے لیکن فقط رسمی طور پر۔ اس کے دل میں پہلے جیسا خلوص، محبت، قدر اور احترام موجود نہیں۔ اس کے علاوہ انسان کسی برائی یا کسی کے ساتھ ہونے والے ظلم کو دیکھ کر وقتی طور پر تو غم زدہ ہوتا ہے۔ وہ سٹیٹس اور پوسٹ وغیرہ کے ذریعے بات پھیلانے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن جہاں ضرورت ہو جہاں مسئلے کا حل نکل سکتا ہو اس مطلوبہ مقام پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور جواز یہ پیش کرتا ہے کہ عصر حاضر کے تقاضے مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ میں یہ بات کہوں۔ اگرچہ عوام النّاس کا یہ بات کہنا تو قابل قبول ہے کیوں کہ اگر وہ سو فیصد حق کی بات کہیں گے تو انہیں بے گناہ ہونے کے باوجود مجرم کی سزا برداشت کرنی پڑے گی۔ مگر وہ تمام افراد جو اثر و رسوخ رکھتے ہیں جن کے پاس اختیار و اقتدار ہے ان کا فرض ہے کہ وہ ظلم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں استعمال ہونے والے جدید آلات کا بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنی صحت کو بھی ان آلات کی وجہ سے داؤ پر لگا رہا ہے۔ ایک طرف اس کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی صحت تو متاثر ہو رہی ہے۔ وہاں دوسری طرف اس کی معاشرتی زندگی بے حد متاثر ہو رہی ہے۔ جدید مواصلاتی آلات نے جہاں فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے وہاں قریب بیٹھے انسان کو بہت دور کر دیا ہے۔ جیسے ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے بہن بھائی سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے بیک وقت اپنے مختلف دوستوں کے ساتھ تو رابطے میں ہوتے ہیں لیکن ایک بھائی اور بہن ایک ہی کمرے میں موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اس ترقی کے نتیجے میں انسان کی اعلٰی اخلاقی اقدار جیسے خلوص، محبت، قربانی، ایثار اور ہمدردی وغیرہ ناپید ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی جگہ مفاد پرستی، منافقت اور خودغرضی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

دور حاضر کی اس چمکتی ہوئی دنیا میں جہاں انسان مادی ترقی کے نتیجے میں بہت سی سہولیات حاصل کر کے اپنی زندگی پرسکون اور سہل پسند بنا رہا ہے وہاں وہ اپنی ذات، جذبات اور رشتوں جیسی انمول نعمتوں کو کھو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان جدید دور کے مواصلاتی آلات اور دیگر ایجادات سے ضرور استفادہ کرے لیکن ان کے استعمال میں اعتدال اور توازن کو برقرار رکھے تاکہ اس کی اپنی ذات کی بھی نفی نہ ہو۔ اس کی ذاتی اور معاشرتی زندگی متاثر نہ ہو۔

اس کی زندگی کی چمک دمک باقی رہے۔ تنہائی کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو ہر فرد کے دل میں چیخ رہا ہے۔ اگر انسان عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حقیقی زندگی میں اپنی ذات اور دیگر رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب کے ساتھ پرخلوص رویہ اختیار کرے تو انسان کی یہ تنہائی دوبارہ آباد ہو سکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ تنہائی کے اس شعوری اور لاشعوری احساس کو ختم کرنے کے لیے اپنے رشتے ناتوں اور تعلقات میں خلوص، محبت اور قدر و احترام جیسے جذبات کو فروغ دے۔ اگر آج انسان نے اس تنہائی پر توجہ نہ دی تو آنے والے دور میں انسان کے گرد انسان کی شکل میں زندہ بتوں کا تو ہجوم ہو گا لیکن وہ پھر بھی دلی طور پر تنہا ہو گا اور اسے اپنے گرد و پیش میں شور شرابے اور آبادی کے باوجود سناٹا اور ویرانی محسوس ہو گی۔

Picture of آصفیہ نورین

آصفیہ نورین

میری تحریریں علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔ ان تحریروں کا بنیادی مقصد فرد کو اس کی ذاتی اہمیت سے روشناس کروانا، حصول علم کی ترغیب دینا محنت، لگن، خلوص اور جدوجہد سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کیوں کہ فرد کی یہی مسلسل جدوجہد پہلے انفرادی طور پر اس کے لیے بعد ازاں پورے ملک، قوم اور معاشرے کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سبب بنتی ہے۔

View All Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *