انسانی زندگی میں اصولوں کو ہمیشہ ہی سے مسلمہ حیثیت حاصل رہی ہے۔ اصول ہی وہ روشن چراغ ہیں جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں معاشرے میں امن وامان قائم ہوتا ہے۔ سماجی نظام منظم ہوتا ہے اور معاشرے کی فضا سازگار اور خوشگوار ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے دور حاضر میں سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کے جدید ترین آلات کی ایجادات نے اصول پسندی کی اہمیت کو ماند کر دیا ہے۔ موجودہ دور میں مفاد پرستی اور وقتی فائدے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور انہی مذکورہ چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اب بھی وہ لوگ موجود ہیں جو اس پرفتن دور میں بھی اصول پسند ہیں مگر بد نصیبی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے۔ یہ لوگ اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق اپنے جان و مال کی پرواہ کیے بغیر ہر حال میں خواہ انہیں کسی کی حمایت حاصل ہو یا نہ ہو مسلمہ اصولوں کی روشنی میں ہی عمل کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کچھ نام نہاد اہل علم لوگ جو تنگ نظر مفاد پرست اور مخالفانہ سوچ کے حامل ہوتے ہیں ہمیشہ ان اصول پسند لوگوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کی تذلیل کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ موجودہ معاشرے میں ایسے اصول پسند لوگوں کے لیے انا پرست، مفاد پرست، ضدی اور سخت گیر جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو عوام النّاس میں ان کے لیے منفی رد عمل پیدا کرتے ہیں۔
ہر انسان اپنی زندگی میں مسلمہ اصولوں کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں زندگی کو آسان بنانے کے لیے کچھ اصول اور نظریات متعین کرتا ہے تاکہ وہ ان اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے معاشرے کا مفید فرد اور ملک و قوم کا بہترین شہری بن سکے۔ ان اصولوں میں دیانتداری، انصاف، محنت، لگن، جدوجہد سے کام کرنا، سچ بولنا، اپنے فرائض منصبی کو اس طرح ادا کرنا جیسا کہ اس منصب کا حق ہے وغیرہ شامل ہیں۔
لیکن موجودہ دور میں اگر کوئی شخص اپنے کردار کے اعتبار سے اپنی ذمے داریاں مکمل ایمانداری سے نبھا رہا ہو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ جیسے اگر کوئی شخص اپنے دوستوں میں بیٹھ کر پڑھائی کر رہا ہو، امتحان کی تیاری میں مگن ہو تو باقی دوست جو پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتے فقط وقت گزاری ان کا مقصد ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ بس امتحان میں اتنا لکھ لیں گے کہ پاس ہو جائیں اور اس کے لیے تو ادھر ادھر سے نقل کرنے کی کوئی سبیل نکال لیں گے۔ جب اصول پسند دوست انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ بعد اذاں کل ہم مختلف اداروں میں مختلف عہدوں پر ملازم مقرر ہوں گے تو اسی صورت میں اپنے فرائض منصبی درست طریقے سے انجام دے سکیں گے جب موجودہ لمحات میں دل لگا کر محنت کی ہو گی۔ اسی طرح والدین جب اولاد کی ہر خواہش اور مطالبے کو پورا کرتے ہیں مگر جب بعض اوقات اولاد کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرتی ہے تو والدین منع کر دیتے ہیں تو اس موقعے پر اولاد والدین کے تمام احسانات کو فراموش کر کے انہیں کہنے لگتے ہیں کہ آپ ہماری بات تو سمجھتے ہی نہیں۔ حالانکہ وہ اصول پسندی کے اعتبار سے بالکل درست کر رہے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اولاد جس چیز کا مطالبہ کر رہی ہوتی ہے وہ اس مطلوبہ وقت میں اس کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ اسی طرح زوجین کے رشتے میں ایک شوہر ساری زندگی اپنی بیوی کے حقوق احسن طریقے سے ادا کرتا ہے پھر جب بیوی اپنے شوہر کی جانب سے کوئی ایسا عمل یا رویہ دیکھتی ہے جو شوہر کے اصولوں کے مطابق بالکل درست ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ بیوی کی طبیعت کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ اسے سخت گیر کہنے لگتی ہے۔ یہی معاملہ بعض اوقات شوہر حضرات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ استاد کے حوالے سے دیکھا جائے تو بعض اوقات ایک استاد سو فیصد محنت سے کمرہ جماعت میں طلبہ میں علم کے موتی بکھیر رہا ہوتا ہے۔ لیکن امتحان کے بعد پیپر چیک کرتے ہوئے کچھ ایسے طلبہ کے امتحانات سامنے آتے ہیں جنہوں نے خالی پرچہ دیا ہوتا ہے۔ جب وہ انہیں فیل کرتا ہے تو بعض اوقات اس استاد کے ساتھ ملازمت کرنے والے دیگر اساتذہ جن کی ان طلبہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی دوستی ہوتی ہے وہ اس استاد پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ انہیں پاس کرو۔ جبکہ اس کا موقف یہ ہوتا ہے کہ ان کو پاس کرنا ان تمام طلبہ کے ساتھ زیادتی اور ظلم کی صورت ہے جو محنت کر کے پاس ہوئے ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہا ہو تو اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کی یہ مشکلات ایک دن ضرور ختم ہوتی ہیں اور مخالفین یہ تسلیم کرنے اور اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس نے اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کے لیے جن اصولوں کو رائج کیا اس میں سب کی بہتری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص اپنے کردار کی حیثیت سے اپنے اصولوں کا علم سیکھے۔ ان اصولوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں انہی اصولوں کی روشنی میں فیصلے کرے خواہ وہ اس کے حق میں ہوں یا مخالفت میں۔ یاد رہے کہ یہ اصول پسندی اگرچہ آج کل انا پرستی، خود غرضی اور ضدی غرور سے تعبیر کی جاتی ہے۔ لیکن وقت ثابت کرے گا کہ یہی انا پرستی اور خود غرضی ان اشخاص کے صرف ذاتی فائدے تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ملک و قوم اور معاشرے کا اجتماعی فائدہ پوشیدہ تھا جو وقت آنے پر ظاہر ہوا۔











