کوئی بھی زبان محض الفاظ کا انبار نہیں۔ تحریر و تقریر میں اس کے درست استعمال کرنے کے لیے قواعد اور ضوابط موجود ہیں۔ ہر زبان اپنی تشکیل اور ساخت کے لحاظ سے مختلف قواعد کی حامل ہے۔ بالکل اسی طرح اردو زبان کے بھی باقاعدہ قواعد موجود ہیں۔ جن کا درست اطلاق معیاری زبان لکھنے، پڑھنے اور بولنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام میں جہاں مختلف مضامین کے لیے باقاعدہ نصابی کتب موجود ہیں۔ وہاں اردو بھی جماعت اول سے لے کر بی اے تک لازمی مضمون کا درجہ رکھتی ہے۔
لازمی حیثیت رکھنے والے اردو مضمون کی کتاب کو دو حصوں یعنی نظم و نثر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں حصے مختلف نثری مضامین اور مختلف نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تقریباً ہر سبق کی مشق میں ایک، دو یا چند سطروں پر مشتمل قواعد کے کسی جزو کی تعریف درج کر دی جاتی ہے۔
ان تعریفات کی موجودگی تو اپنی جگہ درست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تدریس و تعلیم کے لیے اتنے مختصر مواد کی کتاب میں موجودگی کافی ہے۔
قواعد کے حوالے سے طلبہ کی بات کی جائے تو وہ طویل مواد پڑھنے کی وجہ سے قواعد پر مشتمل مختصر مواد کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ بوقت ضرورت آئینہ اردو یا گائڈ بُک سے رٹا لگانے میں ہی اپنی آسانی سمجھتے ہیں۔ یہ کہہ کر اس حصے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کہ اتنی چھوٹی تعریفیں ہیں۔ ان کے بارے میں کون پوچھے گا۔
طلبہ کا غیر ذمے دارانہ رویہ صرف یہاں تک نہیں ہوتا۔ بلکہ جب استاد قواعد پڑھانے لگے۔ تو وہ توجہ سے استاد کے لیکچر کو بھی نہیں سنتے۔
دوسری طرف اکثر و بیشتر اساتذہ ماہر اور قابل ہونے کے باوجود اپنے تدریسی عمل میں قواعد کی تدریس کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔ طلبہ کو کوئی گائڈ بُک یا آئینہ اردو تجویز کر دیتے ہیں۔ کہ مطلوبہ کتاب سے یہ تعریفیں یاد کر لیں۔ یا پھر اساتذہ خود اپنے تیار شدہ مختصر نوٹس جن میں نصاب میں شامل مختلف اصطلاحات کی تعریفیں اور مثالیں درج ہوتی ہیں۔ طلبہ کو تھما دیتے ہیں کہ آپ پڑھ لیں۔ یہ نوٹس امتحانی نقطہ نظر سے اہم ہیں۔
کتاب میں موجود قواعد پر مشتمل مواد کا اختصار، اساتذہ کی عدم توجہی، طلبہ کا قواعد کو فالتو یا غیر اہم سمجھنا تمام وہ اسباب ہیں۔ جن کی وجہ سے اردو زبان کے املا و قواعد میں تیزی سے عوامی سطح پر بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ سنجیدگی سے قواعد کی اہمیت سے طلبہ کو روشناس کروائیں۔ دیگر اسباق کی طرح قواعد کے موضوع پر بھی باقاعدہ لیکچر دیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ شوق اور دلچسپی سے گرامر سیکھیں۔ اس کی اہمیت کو سمجھیں۔ اپنی تحریر کو بہتر بنائیں۔ تلفظ اور املا کی غلطیوں سے گریز کریں۔ اساتذہ کی نصیحت اور اصلاح قبول کریں۔
مزید یہ کہ نصاب ساز کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ ہر کلاس کی نصابی کتب میں طلبہ کی ذہنی استعداد کے مطابق قواعد کے اس حصے کو شامل کریں۔ جس سے طلبہ کی املا، تلفظ، لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت میں بہتری آئے۔ تاکہ اردو زبان کو فروغ حاصل ہو۔ اس میں پیدا ہونے والی تحریری، تقریری خامیوں پر قابو پا کر اسے ترقی یافتہ زبان بنایا جا سکے۔
مختصر یہ کہ اردو زبان کے قواعد کی درست تعلیم و تدریس کے نتیجے میں ہی اردو علمی و عملی میدان میں اپنا جائز حق حاصل کر سکتی ہے۔ اور زندہ رہ سکتی ہے۔











